2 صُبح ہوتے ہی وہ بیت المُقدّس میں پھر واپس ہویٔے اَور سَب لوگ یِسوعؔ کے پاس جمع ہو گئے۔ تَب آپ بیٹھ گیٔے اَور اُنہیں تعلیم دینے لگے۔ 3 اِتنے میں شَریعت کے عالِم اَور فرِیسی ایک عورت کو لایٔے جو زنا کرتی ہویٔی پکڑی گئی تھی۔ اُنہُوں نے اُسے درمیان میں کھڑا کر دیا 4 اَور یِسوعؔ سے فرمایا، ”اَے اُستاد، یہ عورت زنا کرتی ہویٔی پکڑی گئی ہے۔ 5 حضرت مَوشہ نے توریت میں ہمیں حُکم دیا ہے کہ اَیسی عورتوں کو سنگسار کریں، اَب آپ کیا فرماتے ہیں؟“ 6 وہ یہ سوال محض یِسوعؔ کو آزمانے کے لیٔے پُوچھ رہے تھے تاکہ کسی سبب سے یِسوعؔ پر اِلزام لگاسکیں۔
9 یہ سُن کر، سَب چُھوٹے بڑے ایک ایک کر، چلے گیٔے، یہاں تک کہ یِسوعؔ وہاں تنہا رہ گیٔے۔ 10 تَب یِسوعؔ نے سیدھے ہوکر عورت سے پُوچھا، ”اَے عورت، یہ لوگ کہاں چلے گیٔے؟ کیا کسی نے تُجھے مُجرم نہیں ٹھہرایا؟“
11 اُس عورت نے کہا، ”اَے آقا، کسی نے نہیں۔“
13 فریسیوں نے حُضُور المسیح سے سخت لہجے میں کہا، ”آپ اَپنے ہی حق میں اَپنی گواہی دیتے ہیں، آپ کی گواہی قابل قبُول نہیں ہے۔“
14 یِسوعؔ نے جَواب دیا، ”اگر مَیں اَپنے ہی حق میں گواہی دیتا ہُوں، تو بھی میری گواہی قابل قبُول نہیں ہے، کیونکہ مَیں جانتا ہُوں کہ کہاں سے آیا ہُوں اَور کہاں جاتا ہُوں۔ لیکن تُمہیں کیا مَعلُوم کہ میں کہاں سے آیا ہُوں اَور کہاں جاتا ہُوں۔ 15 تُم صورت دیکھ کر فیصلہ کرتے ہو، میں کسی کے بارے میں فیصلہ نہیں کرتا۔ 16 لیکن اگر مَیں فیصلہ کروں بھی، تو میرا فیصلہ، صحیح ہوگا، کیونکہ مَیں تنہا نہیں۔ بَلکہ باپ جِس نے مُجھے بھیجا ہے، میرے ساتھ ہیں۔ 17 تمہاری توریت میں بھی لِکھّا ہے کہ دو آدمیوں کی گواہی سچّی ہوتی ہے۔ 18 میں ہی اَپنی گواہی نہیں دیتا؛ بَلکہ میرا دُوسرا گواہ آسمانی باپ ہے جنہوں نے مُجھے بھیجا ہے۔“
19 تَب اُنہُوں نے حُضُور المسیح سے پُوچھا، ”آپ کا باپ کہاں ہے؟“
22 اِس پر یہُودی رہنما کہنے لگے، ”کیا وہ خُود کو مار ڈالے گا؟ کیا وہ اِسی لیٔے یہ کہتاہے، ’جہاں میں جاتا ہُوں، تُم نہیں آسکتے‘؟“
23 یِسوعؔ نے اُن سے فرمایا، ”تُم نیچے کے یعنی زمین کے ہو؛ میں اُوپر کا ہُوں۔ تُم اِس دُنیا کے ہو، میں اِس دُنیا کا نہیں ہوں۔ 24 مَیں نے تُمہیں بتا دیا کہ تُم اَپنے گُناہ میں مرجاؤگے؛ اگر تُمہیں یقین نہیں آتا کہ وُہی تو میں ہُوں تو تُم واقعی اَپنے گُناہوں میں مرجاؤگے۔“
25 اُنہُوں نے پُوچھا، ”آپ کون ہیں؟“
27 وہ نہ سمجھے کہ وہ اُنہیں اَپنے آسمانی باپ کے بارے میں بتا رہے ہیں۔ 28 لہٰذا یِسوعؔ نے فرمایا، ”جَب تُم اِبن آدمؔ کو اُوپر اُٹھاؤگے یعنی صلیب پر چڑھاؤگے تَب تُمہیں مَعلُوم ہوگا کہ وُہی تو میں ہُوں۔ میں اَپنی طرف سے کُچھ نہیں کرتا بَلکہ وُہی کہتا ہُوں جو باپ نے مُجھے سِکھایا ہے۔ 29 اَور جنہوں نے مُجھے بھیجا ہے وہ میرے ساتھ ہیں؛ اُنہُوں نے مُجھے اکیلا نہیں چھوڑا، کیونکہ مَیں ہمیشہ وُہی کرتا ہُوں جو باپ کو پسند آتا ہے۔“ 30 یِسوعؔ یہ باتیں کہہ ہی رہے تھے کہ بہت سے لوگ اُن پر ایمان لے آئے۔
33 اُنہُوں نے اُن کو جَواب دیا، ”ہم اَبراہامؔ کی اَولاد ہیں اَور کبھی کسی کی غُلامی میں نہیں رہے۔ آپ کیسے کہتے ہیں کہ ہم آزاد کر دئیے جایٔیں گے؟“
34 یِسوعؔ نے جَواب دیا، ”میں تُم سے سچ سچ کہتا ہُوں کہ جو کویٔی گُناہ کرتا ہے وہ گُناہ کا غُلام ہے 35 غُلام مالک کے گھر میں ہمیشہ نہیں رہتا لیکن بیٹا ہمیشہ رہتاہے۔ 36 اِس لیٔے اگر بیٹا تُمہیں آزاد کرےگا، تو تُم حقیقت میں آزاد ہو جاؤگے۔ 37 میں جانتا ہُوں کہ تُم اَبراہامؔ کی اَولاد ہو، پھر بھی تُم مُجھے مار ڈالنا چاہتے ہو کیونکہ تمہارے دِلوں میں میرے کلام کے لیٔے کویٔی جگہ نہیں ہے۔ 38 مَیں نے جو کُچھ باپ کے یہاں دیکھاہے، تُمہیں بتا رہا ہُوں، اَور تُم بھی وُہی کرتے ہو جو تُم نے اَپنے باپ سے سُنا ہے۔“
39 اُنہُوں نے کہا، ”ہمارا باپ تو اَبراہامؔ ہے۔“
42 یِسوعؔ نے اُن سے فرمایا، ”اگر خُدا تمہارا باپ ہوتا تو تُم مُجھ سے مَحَبّت کرتے، اِس لیٔے کہ میرا ظہُور خُدا میں سے ہُواہے اَور اَب مَیں یہاں مَوجُود ہُوں۔ میں اَپنے آپ نہیں آیا؛ بَلکہ باپ نے مُجھے بھیجا ہے۔ 43 تُم میری باتیں کیوں نہیں سمجھتے؟ اِس لیٔے کہ میرے کلام کو سُنتے نہیں۔ 44 تُم اَپنے باپ یعنی اِبلیس کے ہو، اَور اَپنے باپ کی مرضی پر چلنا چاہتے ہو۔ وہ شروع ہی سے خُون کرتا آیا ہے، اَور کبھی سچّائی پر قائِم نہیں رہا کیونکہ اُس میں نام کو بھی سچّائی نہیں۔ جَب وہ جھُوٹ بولتا ہے تو، اَپنی ہی سِی کہتاہے، کیونکہ وہ جھُوٹا ہے اَور جھُوٹ کا باپ ہے۔ 45 چونکہ میں سچ بولتا ہُوں، اِس لیٔے تُم میرا یقین نہیں کرتے! 46 تُم میں کویٔی ہے جو مُجھ میں گُناہ ثابت کر سکے؟ اگر مَیں سچ بولتا ہُوں تو تُم میرا یقین کیوں نہیں کرتے؟ 47 جو خُدا کا ہوتاہے وہ خُدا کی باتیں سُنتا ہے۔ چونکہ تُم خُدا کے نہیں ہو اِس لیٔے خُدا کی نہیں سُنتے۔“
49 یِسوعؔ نے فرمایا، ”مُجھ میں بدرُوح نہیں، مگر میں اَپنے باپ کی عزّت کرتا ہُوں اَور تُم میری بے عزّتی کرتے ہو۔ 50 لیکن مَیں اَپنا جلال نہیں چاہتا؛ ہاں ایک ہے جو چاہتاہے، اَور وُہی فیصلہ کرتا ہے۔ 51 میں تُم سے سچ سچ کہتا ہُوں کہ جو کویٔی میرے کلام پر عَمل کرتا ہے وہ موت کا مُنہ تک کبھی نہ دیکھے گا۔“
52 یہ سُن کر یہُودی چہک کر کہنے لگے، ”اَب ہمیں مَعلُوم ہو گیا کہ آپ میں بدرُوح ہے۔ حضرت اَبراہامؔ مَر گیٔے اَور دُوسرے نبی بھی۔ مگر آپ کہتے ہو کہ جو کویٔی میرے کلام پر عَمل کرےگا وہ موت کا مُنہ کبھی نہ دیکھے گا۔ 53 کیا آپ ہمارے باپ حضرت اَبراہامؔ سے بھی بڑے ہیں۔ وہ مرگئے اَور نبی بھی مَر گیٔے۔ آپ اَپنے کو کیا سمجھتے ہیں؟“
54 یِسوعؔ نے جَواب دیا، ”اگر مَیں اَپنا جلال آپ ظاہر کروں تو وہ جلال کِس کام کا؟ میرا باپ جسے تُم اَپنا خُدا کہتے ہو، وُہی میرا جلال ظاہر کرتا ہے۔ 55 تُم اُنہیں جانتے مگر میں جانتا ہُوں، اگر کہُوں کہ نہیں جانتا تو تمہاری طرح جھُوٹا ٹھہروں گا، لیکن مَیں اُنہیں جانتا ہُوں اَور اُن کے کلام پر عَمل کرتا ہُوں۔ 56 تمہارے باپ اَبراہامؔ کو بڑی خُوشی سے میرے اِس دِن کے دیکھنے کی تمنّا تھی؛ اَبراہامؔ نے وہ دِن دیکھ لیا اَور خُوش ہو گئے۔“
57 یہُودی رہنما نے یِسوعؔ پر طنز کیا، ”آپ کی عمر تو ابھی پچاس سال کی بھی نہیں ہویٔی، اَور آپ نے اَبراہامؔ کو دیکھاہے!“
58 یِسوعؔ نے جَواب دیا، ”میں تُم سے سچ سچ کہتا ہُوں، اَبراہامؔ کے پیدا ہونے سے پہلے میں ہُوں۔“ 59 اِس پر اُنہُوں نے پتّھر اُٹھائے کہ آپ کو سنگسار کریں، لیکن یِسوعؔ خُود، اُن کی نظروں سے بچ کر بیت المُقدّس سے نکل گیٔے۔
<- یُوحنّا 7یُوحنّا 9 ->- a کچھ قدیمی نوشتوں میں آیت شامل نہیں کی گئی ہے
Languages