4 پِیلاطُسؔ ایک بار پھر باہر آیا اَور یہُودیوں سے کہنے لگا، ”دیکھو، مَیں اِنہیں تمہارے پاس باہر لا رہا ہُوں۔ تُمہیں مَعلُوم ہو کہ میں تو اِس شخص کو مُجرم نہیں سمجھتا۔“ 5 جَب یِسوعؔ کانٹوں کا تاج سَر پر رکھے اَور سُرخ چوغہ پہنے ہویٔے باہر آئے، تو پِیلاطُسؔ نے یہُودیوں سے کہا، ”یہ رہا وہ آدمی!“
6 اہم کاہِن اَور اُن کے سپاہی آپ کو دیکھتے ہی، چِلّانے لگے، ”اِسے مصلُوب کرو! اِسے مصلُوب کرو!“
7 یہُودی رہنما اِصرار کرنے لگے، ”ہم اہلِ شَریعت ہیں، اَور ہماری شَریعت کے مُطابق وہ واجِبُ القتل ہے، کیونکہ اِس نے کہا ہے کہ وہ خُدا کا بیٹا ہے۔“
8 جَب پِیلاطُسؔ نے یہ سُنا، تو وہ اَور بھی خوفزدہ ہو گیا، 9 اَور پِیلاطُسؔ نے دوبارہ محل میں جا کر پُوچھا، ”آپ کہاں کے ہو؟“ لیکن یِسوعؔ نے پِیلاطُسؔ کو کُچھ جَواب نہیں دیا۔ 10 پِیلاطُسؔ نے یِسوعؔ سے کہا، ”کیا آپ کو پتا نہیں کہ مُجھے اِختیار ہے کہ آپ کو چھوڑ دُوں یا مصلُوب کر دُوں؟“
11 یِسوعؔ نے جَواب دیا، ”اگر یہ اِختیار آپ کو اُوپر سے نہ مِلا ہوتا تو آپ کا مُجھ پر کویٔی اِختیار نہ ہوتا۔ مگر جِس شخص نے مُجھے آپ کے حوالہ کیا ہے وہ اَور بھی بڑے گُناہ کا مُرتکب ہُواہے۔“
12 اِس کے بعد پِیلاطُسؔ نے یِسوعؔ کو چھوڑدینے کی کوشش کی، لیکن یہُودی رہنما چِلّا چِلّاکر کہنے لگے، ”اگر آپ نے اِس شخص کو رہا کر دیا تو آپ شَہنشاہ قَیصؔر کے خیرخواہ نہیں۔ اگر کویٔی بھی اَپنے بادشاہ ہونے کا اعلان کرتا ہے تو وہ شَہنشاہ قَیصؔر کا مُخالف سمجھا جاتا ہے۔“
13 جَب پِیلاطُسؔ نے یہ سُنا تو اُس نے یِسوعؔ کو باہر بُلایا اَور اَپنے تختِ عدالت پر بیٹھ گیا جو ایک سنگی چبُوترے پر قائِم تھا جسے عِبرانی زبان میں گَبّتھا کہتے ہیں۔ 14 یہ عیدِفسح کی تیّاری کا دِن تھا؛ اَور تقریباً دوپہر کا وقت تھی۔
15 لیکن وہ چِلّائے، ”اِسے یہاں سے لے جاؤ! لے جاؤ! اَور اِسے مصلُوب کرو!“
16 اِس پر پِیلاطُسؔ نے یِسوعؔ کو اُن کے حوالہ کر دیا تاکہ حُضُور کو مصلُوب کیا جائے۔
19 پِیلاطُسؔ نے ایک کتبہ تیّار کروا کر صلیب پر لگا دیا۔ اُس پر یہ تحریر تھا:
22 پِیلاطُسؔ نے جَواب دیا، ”مَیں نے جو کُچھ لِکھ دیا، وہ لِکھ دیا۔“
23 جَب سپاہی حُضُور کو مصلُوب کر چُکے، تو اُنہُوں نے یِسوعؔ کے کپڑے لیٔے، اَور اُن کے چار حِصّے کیٔے تاکہ ہر ایک کو، ایک ایک حِصّہ مِل جائے، صِرف اُن کا کُرتہ، باقی رہ گیا جو بغیر کسی جوڑ کے اُوپر سے نیچے تک بُنا ہُوا تھا۔
24 اُنہُوں نے آپَس میں طے کیا۔ ”اِس کو پھاڑنے کے بجائے، اُس پر قُرعہ ڈال کر دیکھیں کہ یہ کِس کے حِصّہ میں آتا ہے۔“
25 یِسوعؔ کی صلیب کے پاس اُن کی ماں، ماں کی بہن، مریمؔ جو کلوپاسؔ کی بیوی تھی، اَور مریمؔ مَگدلِینیؔ کھڑی تھیں۔ 26 جَب یِسوعؔ نے اَپنی ماں کو، اَور اَپنے ایک عزیز شاگرد کو نزدیک ہی کھڑے دیکھا، تو ماں سے کہا، اَے خاتُون، اَب سے آپ کا بیٹا یہ ہے، 27 اَور شاگرد سے فرمایا، ”اَب سے تمہاری ماں یہ ہیں۔“ وہ شاگرد تَب سے، اُنہیں اَپنے گھر لے گیا۔
31 یہ فسح کی تیّاری کا دِن تھا، اَور اگلے دِن خصوصی سَبت تھا۔ یہُودی رہنما نہیں چاہتے تھے کہ سَبت کے دِن لاشیں صلیبوں پر ٹنگی رہیں، لہٰذا اُنہُوں نے پِیلاطُسؔ کے پاس جا کر درخواست کی کہ مُجرموں کی ٹانگیں توڑ کر اُن کی لاشوں کو نیچے اُتار لیا جائے۔ 32 چنانچہ سپاہی آئے اَور اُنہُوں نے پہلے اُن دو آدمیوں کی ٹانگیں توڑیں جنہیں حُضُور کے ساتھ مصلُوب کیا گیا تھا۔ 33 لیکن جَب یِسوعؔ کی باری آئی تو اُنہُوں نے دیکھا کہ وہ تو پہلے ہی مَر چُکے ہیں لہٰذا اُنہُوں نے آپ کی ٹانگیں نہ توڑیں۔ 34 مگر، سپاہیوں میں سے ایک نے اَپنا نیزہ لے کر یِسوعؔ کے پہلو میں مارا، اَور آپ کی پسلی چھید ڈالی جِس سے فوراً خُون اَور پانی بہنے لگا۔ 35 جو شخص اِس واقعہ کا چشم دید گواہ ہے وہ گواہی دیتاہے، اَور اُس کی گواہی سچّی ہے۔ وہ جانتا ہے کہ وہ سچ کہہ رہاہے، تاکہ تُم بھی ایمان لاؤ۔ 36 یہ ساری باتیں اِس لیٔے ہویٔیں کہ کِتاب مُقدّس کا لِکھّا قول پُورا ہو جائے: ”اُس کی کوئی بھی ہڈّی نہ توڑی جائے گی،“[c] 37 اَور کِتاب مُقدّس ایک اَور جگہ بَیان کرتی ہے، ”وہ یِسوعؔ پر جسے اُنہُوں نے چھید ڈالا نظر کریں گے۔“[d]
Languages