6 یِسوعؔ نے جَواب میں فرمایا، ”راہ اَور حق اَور زندگی میں ہی ہُوں۔ میرے وسیلہ کے بغیر کویٔی باپ کے پاس نہیں آتا۔ 7 اگر تُم نے واقعی مُجھے جانا ہوتا، تو میرے باپ کو بھی جانتے۔ اَب تُم اُنہیں جان گیٔے ہو بَلکہ اُنہیں دیکھ بھی چُکے ہو۔“
8 فِلِپُّسؔ نے کہا، ”اَے خُداوؔند، ہمیں باپ کا دیدار کرا دیجئے، بس یہی ہمارے لیٔے کافی ہے۔“
9 یِسوعؔ نے جَواب دیا: ”فِلِپُّسؔ میں اِتنے عرصہ سے تُم لوگوں کے ساتھ ہُوں، کیا تُم مُجھے نہیں جانتے؟ جِس نے مُجھے دیکھاہے اُس نے باپ کو دیکھاہے۔ تُم کیسے کہتے ہو؟ ’ہمیں باپ کا دیدار کرا دیجئے‘؟ 10 کیا تُمہیں یقین نہیں کہ میں باپ میں ہُوں، اَور باپ مُجھ میں ہیں؟ میں جو باتیں تُم سے کہتا ہُوں وہ میری طرف سے نہیں بَلکہ، میرا باپ، مُجھ میں رہ کر، اَپنا کام کرتے ہیں۔ 11 جَب مَیں کہتا ہُوں کہ میں باپ میں ہُوں اَور باپ مُجھ میں ہیں تو یقین کرو یا کم اَز کم میرے کاموں کا تو یقین کرو جو میرے گواہ ہیں۔ 12 میں تُم سے سچ سچ کہتا ہُوں، جو مُجھ پر ایمان رکھتا ہے وہ بھی وُہی کرےگا جو میں کرتا ہُوں، بَلکہ وہ اِن سے بھی بڑے بڑے کام کرےگا، کیونکہ مَیں باپ کے پاس جا رہا ہُوں۔ 13 جو کُچھ تُم میرا نام لے کر مانگوگے، میں تُمہیں دُوں گا تاکہ باپ کا جلال بیٹے کے ذریعہ ظاہر ہو۔ 14 تُم میرے نام سے کُچھ بھی فریاد کروگے، تو میں اُسے ضروُر پُورا کروں گا۔
22 تَب یہُوداہؔ (یہُوداہؔ اِسکریوتی نہیں) نے کہا، ”لیکن، اَے خُداوؔند، کیا وجہ ہے کہ حُضُور آپ خُود کو ہم پر ظاہر کریں گے لیکن دُنیا پر نہیں؟“
23 یِسوعؔ نے جَواب میں فرمایا، ”اگر کویٔی مُجھ سے مَحَبّت رکھتا ہے تو وہ میرے کلام پر عَمل کرےگا۔ میرے باپ اُس سے مَحَبّت رکھیں گے اَور ہم اُن کے پاس آکر اَور اُن کے ساتھ رہیں گے۔ 24 جو مُجھ سے مَحَبّت نہیں رکھتا وہ میرے کلام پر عَمل نہیں کرتا۔ یہ کلام جو تُم سُن رہے ہو؛ میرا اَپنا نہیں بَلکہ میرے باپ کا ہے جِس نے مُجھے بھیجا ہے۔
25 ”یہ ساری باتیں مَیں نے تمہارے ساتھ رہتے ہویٔے کہیں۔ 26 لیکن وہ مددگار، یعنی پاک رُوح، جسے باپ میرے نام سے بھیجے گا، تُمہیں ساری باتیں سِکھائے گا اَور ہر بات جو مَیں نے تُم سے کہی ہے، یاد دِلائے گا۔ 27 مَیں تمہارے ساتھ اَپنی سلامتی چھوڑے جاتا ہُوں۔ میں اَپنی سلامتی تُمہیں دیتا ہُوں۔ جِس طرح دُنیا دیتی ہے اُس طرح نہیں۔ چنانچہ دِلوں کو پریشان نہ ہونے دو اَور خوفزدہ نہ ہو۔
28 ”تُم نے مُجھے یہ کہتے سُنا، ’میں جا رہا ہُوں اَور تمہارے پاس پھر آؤں گا۔‘ اگر تُم مُجھ سے مَحَبّت کرتے تو خُوش ہوتے کہ میں باپ کے پاس جا رہا ہُوں، کیونکہ باپ مُجھ سے بڑا ہے۔ 29 مَیں نے ساری باتیں پہلے ہی تُمہیں بتا دی ہیں تاکہ جَب وہ پُوری ہو جایٔیں تو تُم مُجھ پر ایمان لاؤ۔ 30 اَب مَیں تُم سے اَور زِیادہ باتیں نہیں کروں گا، کیونکہ اِس دُنیا کا حُکمراں آ رہاہے۔ اُس کا مُجھ پر کویٔی اِختیار نہیں، 31 لیکن دُنیا کو مَعلُوم ہونا چاہئے کہ میں باپ سے مَحَبّت کرتا ہُوں اَور اُس کے ہر حُکم کی پیروی کرتا ہُوں جِس کا باپ مُجھے حُکم دیتاہے۔
Languages