اَور جَوان اَور ضعیف دونوں ایک ساتھ خُوشی منائیں گے۔
کیونکہ مَیں اُن کے ماتم کو خُوشی میں تبدیل کر دُوں گا؛
اَور اُنہیں غم کی بجائے سکون اَور شادمانی بخشوں گا۔
14 میں کاہِنوں کی جان کو اِفراط سے مطمئن کروں گا،
اَور میری قوم میری عُمدہ نِعمتوں سے سَیر ہوگی،“ یہ یَاہوِہ کا فرمان ہے۔
15 یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں:
”رامہؔ شہر میں ایک آواز سُنایٔی دیتی ہے
شدید رونے اَور ماتم کی،
راخلؔ اَپنے بچّوں کے لیٔے رو رہی ہے
اَور تسلّی قبُول نہیں کر رہی،
کیونکہ وہ ہلاک ہو چُکے ہیں۔“
16 یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں:
”اَپنی رونے کی آواز کو روک
اَور اَپنی آنکھوں کو آنسُو بہانے سے باز رکھ،
کیونکہ تُو اَپنی محنت کا اجر پایٔے گی،“
یَاہوِہ فرماتے ہیں،
”وہ دُشمن کے مُلک سے واپس آئیں گے۔
17 اِس لیٔے تمہارا مُستقبِل پُر اُمّید ہے،“
یَاہوِہ فرماتے ہیں۔
”تمہارے بچّے اَپنے ہی مُلک میں لَوٹ آئیں گے۔
18 ”مَیں نے اِفرائیمؔ کو واقعی یُوں ماتم کرتے ہُوئے سُنا ہے،
’آپ نے مُجھے ایک اودھم مچانے والے بچھڑے کی مانند تنبیہ دی،
اَور مَیں نے اِس سے سبق سیکھا ہے۔
مُجھے بحال کریں اَور مَیں لَوٹ آؤں گا،
کیونکہ آپ یَاہوِہ میرے خُدا ہیں۔
19 بھٹک جانے کے بعد،
مَیں نے تَوبہ کی؛
اَور جَب مَیں سمجھ گیا،
تو مَیں نے اَپنی چھاتی پیٹی۔
میں شرمندہ اَور پشیمان ہُوا
کیونکہ مَیں نے اَپنی جَوانی کی ملامت اُٹھائی تھی۔‘
20 کیا اِفرائیمؔ میرا پیارا بیٹا نہیں ہے؟
کیا وہ میرا پسندیدہ فرزند نہیں ہے؟
حالانکہ میں اکثر اُس کے خِلاف بولتا ہُوں،
پھر بھی اُسے پُورے دِل سے یاد کرتا ہُوں۔
اِس لیٔے میرا دِل اُس کے لیٔے بیتاب رہتاہے؛
اِس لئے میرا دِل اُس کے لئے شفقت سے بھرا ہُواہے۔“
یہ یَاہوِہ کا فرمان ہے۔
21 ”راستہ پر آمدورفت کے سنگِ نِشان کھڑے کرو؛
اَور سمت بتانے والا سُتون نصب کر۔
جو راستہ تُمہیں اِختیار کرناہے،
اُس شاہراہ کا جائزہ لو۔
اَے کنواری اِسرائیل، لَوٹ آ،
اَپنے شہروں کو لَوٹ آ۔
22 اَے بےوفا بیٹی اِسرائیل،
تو کب تک بھٹکتی رہے گی؟
یَاہوِہ زمین پر نئی چیز پیدا کریں گے۔
یعنی سفر میں عورتیں تمام مَردوں کی حِفاظت کریں گی۔“
23 قادرمُطلق یَاہوِہ، بنی اِسرائیل کے خُدا یُوں فرماتے ہیں: ”جَب مَیں اُنہیں اسیری سے واپس لاؤں گا، تَب یہُوداہؔ اَور اُن کے شہروں کے باشِندوں کے لبوں پر پھر سے یہ برکت کے کلمے نکلیں گے: ’اَے صداقت کے مَسکن اَور اَے مُقدّس پہاڑ! یَاہوِہ تُمہیں برکت دیں۔‘ 24 یہُودیؔہ اَور اُس کے تمام شہروں کے باشِندے، کِسان اَور چرواہے بھی مع ریوڑوں کے ایک ساتھ جمع ہوکر بس جایٔیں گے۔ 25 کیونکہ مَیں تھکے ہوؤں کو تازگی بخشوں گا اَور بھُوک سے کمزوروں کو سیر کروں گا۔“
26 تَب مَیں نے بیدار ہوکر آنکھیں کھولیں اَور مَیں نے چاروں طرف نگاہ کی۔ میری نیند مُجھے میٹھی لگی۔
27 ”وہ دِن آ رہے ہیں،“ یَاہوِہ فرماتے ہیں، ”جَب مَیں مُلکِ اِسرائیل اَور مُلکِ یہُودیؔہ کے گھرانوں میں اِنسانوں اَور حَیوانوں دونوں کے بچّوں کو بہت بڑھاؤں گا۔ 28 جِس طرح میں اُن کو اُکھاڑنے، ڈھانے گرانے، تباہ کرنے اَور مُصیبت لانے کے لیٔے اُن کی گھات میں تھا، اُسی طرح سے اَب مَیں اُن کو اَپنی نِگرانی میں لگاؤں گا اَور بڑھاؤں گا،“ یَاہوِہ کا یہ فرمان ہے۔ 29 ”اُن دِنوں میں لوگ پھر یُوں نہ کہیں گے،
’آباؤاَجداد نے کچّے انگور کھائے،
اَور اَولاد کے دانت کھٹّے ہو گئے۔‘
30 بَلکہ ہر شخص اَپنے ہی گُناہ کے باعث مَرے گا؛ اَورجو کویٔی کچّے انگور کھائے گا اُسی کے دانت کھٹّے ہوں گے۔
31 ”دیکھو! وہ دِن آ رہے ہیں،“ یَاہوِہ فرماتے ہیں،
”جَب مَیں بنی اِسرائیل
اَور بنی یہُوداہؔ کے ساتھ
ایک نیا عہد باندھوں گا۔
32 جو اُس عہد کی مانند نہ ہوگا
جو مَیں نے اُن کے آباؤاَجداد کے ساتھ،
اُس وقت باندھا تھا،
جَب مَیں نے اُن کا ہاتھ پکڑکر،
اُنہیں مِصر سے باہر نکالا تھا،
کیونکہ اُنہُوں نے میرے اُس عہد کو توڑ ڈالا تھا،
حالانکہ میں اُن کا شوہر تھا،“
یہی یَاہوِہ کا کلام ہے۔
33 ”جو عہد مَیں بنی اِسرائیل کے ساتھ،
اُن دِنوں کے بعد باندھوں گا وہ یہ ہے،“ یَاہوِہ فرماتے ہیں۔
”مَیں اَپنے آئین اُن کے ذہنوں پر نقش کر دُوں گا
اَور اُن کے دِلوں میں ڈالُوں گا۔
مَیں اُن کا خُدا ہوں گا،
اَور وہ میری اُمّت ہوں گے۔
34 اَور ہر شخص اَپنے ہمسایہ کو
یا اَپنے بھایٔی کو یہ تعلیم نہ دے گا، ’تُم یَاہوِہ کو پہچانو،‘
کیونکہ وہ سَب مُجھے نزدیکی سے جان لیں گے،
چُھوٹے سے لے کر بڑے تک،“
یہ یَاہوِہ کا فرمان ہے
”اِس لیٔے کہ مَیں اُن کی بدکاریوں کو مُعاف کر دُوں گا،
اَور اُن کے گُناہوں کو پھر کبھی یاد نہ کروں گا۔“
35 یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں،
جِس نے دِن میں رَوشنی دینے کے لیٔے
سُورج کو مُقرّر کیا،
اَور رات میں رَوشنی دینے کے لیٔے
چاند اَور سِتاروں کو حُکم دیا،
جو سمُندر کو موجزن کرتے ہیں
تاکہ اُس کی لہریں شور مچائیں۔
جِن کا نام قادرمُطلق یَاہوِہ ہے:
36 ”اگرچہ یہ قوانین میرے سامنے سے ٹل جائیں،“
وُہی یَاہوِہ فرماتے ہیں،
”تبھی بنی اِسرائیل کی نَسل بھی موقُوف ہو جائے گی،
اَور پھر کبھی بھی ایک قوم کی طرح وُجُود میں قائِم نہ رہ سکے گی۔“
37 یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں:
”اگر کوئی اُوپر آسمان کی پیمائش کر سکے،
اَور نیچے زمین کی بُنیاد کا سُراغ لگا سکے
تو میں بھی بنی اِسرائیل کو
اُن کے اعمال کے باعث ردّ کر دُوں گا۔“
یہ یَاہوِہ فرماتے ہیں۔
38 ”وہ دِن آ رہے ہیں،“ یَاہوِہ فرماتے ہیں، ”جَب یہ شہر حَنن ایل کے بُرج سے لے کر کونے کے پھاٹک تک میرے لیٔے پھر سے تعمیر کیا جائے گا۔ 39 پیمائشی جریب یعنی رسّی وہاں سے سیدھی کوہِ گاریبؔ پر سے ہوتی ہُوئی گوعاہؔ کی طرف مُڑ جائے گی۔ 40 اَور تمام وادی جہاں لاشیں اَور راکھ پھینکی جاتی ہے اَور قِدرُونؔ کی وادی تک سَب کھیت، اَور مشرق کی جانِب سے گھوڑے پھاٹک کے کونے تک یَاہوِہ کے لیٔے مُقدّس ہوں گے۔ اَور پھر کبھی یہ شہر اَبد تک نہ تو گرایا جائے گا اَور نہ تباہ کیا جائے گا۔“