1 یَاہوِہ نے مُجھ سے یُوں فرمایا: ”جاؤ اَور کپڑے کا ایک کتانی کمربند خرید لو اَور اُسے اَپنی کمر پر باندھ لو لیکن اُسے پانی میں مت بھگونا۔“ 2 چنانچہ مَیں نے یَاہوِہ کی ہدایت کے مُطابق ایک کمربند خرید لیا اَور اُسے اَپنی کمر پر باندھ لیا۔
3 تَب دوبارہ یَاہوِہ کا کلام مُجھ پر نازل ہُوا: 4 ”جو کمربند تُم نے خریدا ہے اَور اَپنی کمر پر باندھ رکھا ہے اُسے لے کر دریائے فراتؔ کو جاؤ اَور وہاں اُسے چٹّانوں کی دراڑ میں چھُپا دینا۔“ 5 چنانچہ یَاہوِہ کے حُکم کے مُطابق مَیں نے جا کر اُسے دریائے فراتؔ میں چھُپا دیا۔
6 اَور بہت دِنوں کے بعد یَاہوِہ نے مُجھ سے پھر فرمایا، ”اُٹھو، اَب دریائے فراتؔ کو چلے جاؤ اَور اُس کمربند کو جسے تُم نے میرے حُکم سے وہاں چھُپا رکھا ہے، نکال کر لے آؤ۔“ 7 چنانچہ میں دریائے فراتؔ کو روانہ ہُوا، اَور جِس جگہ اُس کمربند کو چھُپا رکھا تھا وہاں سے اُسے کھود نکالا۔ لیکن اَب وہ خَراب ہو چُکاتھا اَور کسی کام کا نہ رہاتھا۔
8 پھر یَاہوِہ کا کلام مُجھ پر نازل ہُوا، 9 ”یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں: ’اِسی طرح سے میں یہُودیؔہ کا غُرور اَور یروشلیمؔ کے بڑے تکبُّر کو تباہ کر دُوں گا۔ 10 یہ بدکار لوگ جو میرا کلام سُننے سے اِنکار کرتے ہیں اَورجو اَپنے ہی دِلوں کی ضِد پر چلتے ہیں اَور غَیر معبُودوں کی پیروی، اُن کی اِطاعت اَور عبادت کرتے ہیں، وہ ٹھیک اِسی کمربند کی مانند بالکُل ناکارہ ہو جایٔیں گے! 11 کیونکہ جِس طرح کمربند اِنسان کی کمر سے لپیٹا رہتاہے اُسی طرح یَاہوِہ فرماتے ہیں کہ مَیں نے بنی اِسرائیل اَور بنی یہُوداہؔ کے سارے گھرانے کو اَپنی کمر سے باندھ لیا تھا،‘ تاکہ ’وہ میری قوم، میرا جلال، فخر اَور میرے نام کے سِتائش کا باعث ٹھہریں۔ لیکن اُنہُوں نے نہ مانا۔‘
مَے کی مَشکیں
12 ”اِس لئے اُن سے کلام کر، ’یَاہوِہ، بنی اِسرائیل کے خُدا کا یہ فرمان ہے: ہر ایک مَشکوں میں مَے بھری جائے۔‘ اَور اگر وہ تُم سے پوچھیں، ’کیا ہم نہیں جانتے کہ مَے کی مشک مَے ہی سے بھری جاتی ہے؟‘ 13 تَب اُن سے کہنا، ’یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں، دیکھو، مَیں اِس مُلک کے سبھی باشِندوں کو خاص کر داویؔد کے تخت پر بیٹھنے والے بادشاہ، کاہِنوں، نبیوں اَور یروشلیمؔ کے تمام باشِندے کو اَپنی قہر کی مَے سے مدمست کر دُوں گا۔ 14 تَب میں اُنہیں ایک دُوسرے سے ٹکرا دُوں گا خواہ وہ باپ اَور بیٹے ہی کیوں نہ ہوں۔ یَاہوِہ فرماتے ہیں، میں اُن پر ہمدردی اَور شفقت نہیں دِکھاؤں گا اَور نہ رحم کرکے اُنہیں تباہ ہونے سے بچاؤں گا۔‘ “
اسیری کا خطرہ
15 سُنو اَور غور کرو،
مغروُر نہ بنو،
کیونکہ یَاہوِہ نے فرمایاہے۔
16 یَاہوِہ اَپنے خُدا کی تمجید کرو،
اِس سے پہلے کہ وہ تاریکی لائیں،
اَور تمہارے قدم
تاریک پہاڑیوں پر ٹھوکر کھایٔیں۔
اَور جَب تُم رَوشنی کی اُمّید کرو،
تو وہ اُسے موت کے گہرے سائے میں تبدیل کرکے
اُسے سخت تاریکی بنا دیں۔
17 لیکن اگر تُم نہ سُنو،
تو تمہارے غُرور کے باعث
میں خلوت میں روؤں گا؛
کیونکہ یَاہوِہ کے گلّے اسیری میں چلے جائیں گے،
اِس لیٔے میری آنکھیں زار زار روئیں گی،
اَور آنسُو بہائیں گی۔
18 بادشاہ اَور اُس کی مادرِ ملِکہ سے فرما،
”اَپنے شاہی تختوں سے نیچے اُتر آؤ،
کیونکہ تمہارے سَروں پر سے تمہارے جلالی تاج،
گرا دئیے جایٔیں گے۔“
19 نِیگیوؔ علاقے کے شہروں کا اَب محاصرہ کر لیا گیا ہے،