3 تَب یَشعیاہ نبی نے حِزقیاہؔ بادشاہ کے پاس جا کر پُوچھا، ”اُن لوگوں نے کیا کہا اَور وہ کہاں سے آئےتھے؟“
4 تَب نبی نے پُوچھا، ”اُنہُوں نے آپ کے محل میں کیا کیا دیکھا؟“
5 تَب یہ سُن کر یَشعیاہ نے حِزقیاہؔ سے فرمایا، ”قادرمُطلق یَاہوِہ کا کلام سُنو۔ 6 یَاہوِہ فرماتے ہیں کہ وہ دِن یقیناً آنے والے ہیں، جَب تمہارے محل کی ہر ایک چیز اَور سَب کچھ جو تمہارے آباؤاَجداد نے آج تک جمع کیا ہے، بابیل کو لے جایا جائے گا اَور یہاں کچھ بھی باقی نہ رہ جائے گا۔ 7 اَور تمہارے بیٹوں میں سے بعض کو جو تمہارے اَپنے گوشت اَور خُون ہیں اُنہیں اسیری میں لے جایا جائے گا اَور اُنہیں شاہِ بابیل کے محل کے خواجہ سرا بنا دیا جائے گا۔“
8 حِزقیاہؔ نے یَشعیاہ کو جَواب دیا، ”یَاہوِہ کا کلام جو آپ نے سُنایا بھلا ہی ہے،“ کیونکہ اُس نے سوچا، ”جَب تک میں زندہ ہُوں تَب تک اَمن و سلامتی قائِم رہے گی۔“
<- یَشعیاہ 38یَشعیاہ 40 ->
Languages