1 چنانچہ جَب گواہوں کااِتنا بڑا بادل ہمیں گھیرے ہویٔے ہے، تو آؤ ہم بھی ہر ایک رُکاوٹ اَور اُس گُناہ کو جو ہمیں آسانی سے اُلجھا لیتا ہے، دُور کرکے اُس دَوڑ میں صبر سے دَوڑیں جو ہمارے لیٔے مُقرّر کی گئی ہے۔ 2 اَور ایمان کے بانی اَور کامِل کرنے والے یِسوعؔ پر اَپنی نظریں جمائے رکھیں جِس نے اُس خُوشی کے لیٔے جو اُن کی نظروں کے سامنے تھی، شرمندگی کی پروا نہ کرتے ہویٔے صلیبی موت کا دُکھ سہا اَور خُدا کے داہنی طرف تخت نشین ہیں۔ 3 تُم اُن پر غور کرو جِس نے گُنہگاروں کی کتنی بڑی مُخالفت برداشت کی تاکہ تُم بے دِل ہوکر ہِمّت نہ ہارو۔
7 اَپنی مُصیبتوں کو الٰہی تنبیہ سمجھ کر برداشت کرو گویا خُدا تُمہیں اَپنے فرزند سمجھ کر تمہاری تربّیت کر رہاہے۔ کیونکہ وہ کون سا بیٹا ہے جسے اُس کا باپ تنبیہ نہیں کرتا؟ 8 اگر تمہاری تنبیہ سَب کی طرح نہیں کی جاتی تو، تُم بھی ناجائز فرزند ٹھہرتے اَور خُداوؔند کی حقیقی بیٹیاں اَور بیٹے نہیں ٹھہرتے۔ 9 اِس کے علاوہ، جَب ہمارے جِسمانی باپ ہماری تنبیہ کرتے تھے تو ہم اُن کی تعظیم کرتے تھے، تو کیا رُوحانی باپ کی اِس سے زِیادہ تابع داری نہ کریں تاکہ زندہ رہیں؟ 10 ہمارے جِسمانی باپ تو تھوڑے دِنوں کے لیٔے اَپنی سمجھ کے مُطابق ہمیں تنبیہ کرتے تھے لیکن خُدا ہمارے فائدہ کے لیٔے ہمیں تنبیہ کرتا ہے تاکہ ہم اُس کی پاکیزگی میں شریک ہونے کے لائق بَن جایٔیں۔ 11 اِس میں شک نہیں جَب تنبیہ کی جاتی ہے تو اُس وقت وہ خُوشی کا نہیں بَلکہ غم کا باعث مَعلُوم ہوتی ہے مگر جو اُسے سَہہ سَہہ کر پُختہ ہو گیٔے ہیں اُنہیں بعد میں راستبازی اَور سلامتی کا اجر ملتا ہے۔
12 چنانچہ اَپنے تھکے ہویٔے بازوؤں اَور کمزور گھٹنوں کو مضبُوط کرو۔ 13 ”اَور اَپنے پاؤں کے لیٔے سیدھے راستہ بناؤ“[b] تاکہ لنگڑا عُضو ٹوٹ نہ جائے بَلکہ شفایاب رہے۔
22 لیکن تُم کوہِ صِیّونؔ اَور زندہ خُدا کے شہر یعنی آسمانی یروشلیمؔ اَور بے شُمار فرشتوں اَور جَشن منانے والی جماعت کے پاس آئے ہو۔ 23 اَور اُن پہلوٹھوں کی جماعت کے پاس جِن کے نام آسمان پر لکھے ہویٔے ہیں۔ اَور تُم اُس خُدا کے پاس آ چُکے ہو جو سَب کا مُنصِف ہے۔ تُم کامِل کیٔے ہویٔے راستبازوں کی رُوحوں، 24 اَور نئے عہد کے درمیانی، یِسوعؔ اَور اُس کے چھڑکے ہویٔے خُون کے پاس آ چُکے ہو، جو ہابلؔ کے خُون کی نِسبت بہتر باتیں کہتاہے۔
25 چنانچہ خبردار رہو کہ اُس کا جو تُم سے ہم کلام ہو رہاہے اِنکار نہ کرنا کیونکہ جَب وہ لوگ زمین پر تنبیہ کرنے والے حضرت مَوشہ کا اِنکار کرکے نہ بچ سکے تو ہم آسمان پر کے ہدایت کرنے والے کا اِنکار کرکے کیسے بچیں گے؟ 26 اُس وقت تو اُس کی آواز نے زمین کو ہلا دیا تھا مگر اَب اُس نے یہ وعدہ کیا ہے کہ، ”پھر ایک بار میں فقط خُشکی کو ہی نہیں بَلکہ آسمانوں کو بھی ہلا دُوں گا۔“[g] 27 اَور یہ عبارت ”ایک بار پھر“ صَاف ظاہر کرتی ہے کہ خلق کی ہُوئی ساری چیزیں ہلایٔی اَور مٹا دی جایٔیں گی، تاکہ وُہی چیزیں قائِم رہیں جو ہلایٔی نہیں جا سکتی ہیں۔
28 چنانچہ جَب ہمیں اَیسی بادشاہی عطا کی جا رہی ہے جسے ہلایا نہیں جا سَکتا تو آؤ ہم خُدا کا شُکر اَدا کریں اَور اُس کی عبادت خُدا ترسی و خوف کے ساتھ کریں تاکہ وہ خُوش ہو سکے۔ 29 کیونکہ ہمارا ”خُدا بھسم کر دینے والی آگ ہے۔“[h]
<- عِبرانیوں 11عِبرانیوں 13 ->
Languages