6 یہُوداہؔ نے اَپنے پہلوٹھے بیٹے عیرؔ کی شادی جِس عورت سے کی اُس کا نام تامارؔ تھا۔ 7 لیکن یہُوداہؔ کا پہلوٹھا بیٹا عیرؔ یَاہوِہ کی نگاہ میں بدکار تھا؛ اِس لیٔے یَاہوِہ نے اُسے ہلاک کر دیا۔
8 تَب یہُوداہؔ نے اَونانؔ سے کہا، ”اَپنے بھایٔی کی بیوی کے پاس جا اَور دیور کا حق اَدا کر تاکہ تمہارے بھایٔی کے نام سے نَسل چلے۔“ 9 لیکن اَونانؔ جانتا تھا کہ وہ بچّے اُس کے نہ کہلایٔیں گے اِس لیٔے جَب کبھی وہ اَپنے بھایٔی کی بیوی کے پاس جاتا تھا تو اَپنا نطفہ زمین پر گرا دیتا تھا تاکہ کویٔی بچّہ نہ ہو جو اُس کے بھایٔی کی نَسل کہلا سکے۔ 10 اُس کا یہ فعل یَاہوِہ کی نظر میں بُرا تھا اِس لیٔے یَاہوِہ نے اُسے بھی زندہ نہ رہنے دیا۔
11 تَب یہُوداہؔ نے اَپنی بہُو تامارؔ سے کہا، ”میرے بیٹے شِلحؔ کے بالغ ہونے تک تُو اَپنے باپ کے گھر میں بِیوہ کے طور پر بیٹھی رہ۔“ کیونکہ یہُوداہؔ نے سوچا، ”کہ کہیں شِلحؔ بھی اَپنے بھائیوں کی طرح مارا نہ جائے۔“ چنانچہ تامارؔ اَپنے باپ کے گھرجاکر رہنے لگی۔
12 کافی عرصہ کے بعد یہُوداہؔ کی بیوی جو شُوعؔ کی بیٹی تھی مَر گئی۔ جَب ماتم کے دِن پُورے ہو گئے تو یہُوداہؔ اَپنے عدولاّمی دوست حیراہؔ کے ساتھ اَپنی بھیڑوں کی اُون کترنے والوں کے پاس تِمنؔہ کو چلا گیا۔
13 جَب تامارؔ کو یہ خبر مِلی، ”اُس کا سسُر بھیڑوں کی پشم کترنے کے لیٔے تِمنؔہ آ رہاہے،“ 14 تو اُس نے اَپنا بیوگی کا لباس اُتار کر بُرقع پہن لیا تاکہ اَپنا بھیس بدل لے۔ تَب وہ عینیمؔ کے پھاٹک پرجو تِمنؔہ کی راہ پر ہے جا بیٹھی۔ کیونکہ اُس نے دیکھا کہ شِلحؔ بالغ ہو چُکاہے پھر بھی وہ اُس سے بیاہی نہ گئی تھی۔
15 جَب یہُوداہؔ نے اُسے دیکھا تو اُسے کویٔی فاحِشہ سمجھا کیونکہ اُس نے اَپنا چہرہ چھُپا رکھا تھا۔ 16 یہ نہ جانتے ہویٔے کہ وہ اَپنی ہی بہُو ہے وہ راستہ چھوڑکر اُس کے پاس گیا اَور کہا، ”مُجھے اَپنے ساتھ مباشرت کرنے دے۔“
17 اُس نے کہا، ”میں اَپنے گلّہ میں سے بکری کا ایک بچّہ تُجھے بھیج دُوں گا۔“
18 یہُوداہؔ نے جَواب دیا، ”مَیں تمہارے پاس کیا رہن رکھوں؟“
20 اِس اَثنا میں یہُوداہؔ نے اَپنے عدولاّمی دوست کے ساتھ بکری کا بچّہ بھیجا تاکہ اُس عورت کے پاس سے اَپنا رہن واپس منگائے، لیکن اُسے وہ عورت نہیں مِلی۔ 21 اُس نے وہاں کے باشِندوں سے دریافت کیا، ”وہ فاحِشہ کہاں ہے جو عینیمؔ میں راہ کے کنارے بیٹھی تھی؟“
22 چنانچہ وہ یہُوداہؔ کے پاس واپس آیا اَور بتایا، ”وہ مُجھے نہیں مِلی۔ اَور وہاں کے لوگوں نے بھی بتایا، ’یہاں پر کوئی فاحِشہ تھی ہی نہیں۔‘ “
23 تَب یہُوداہؔ نے کہا، ”اُس رہن کو اُسی کے پاس رہنے دو ورنہ ہماری بڑی بدنامی ہوگی۔ مَیں نے تو اُسے بکری کا بچّہ بھیجا تھا پر وہ تُم کو نہ مِلی۔“
24 تقریباً تین ماہ کے بعد یہُوداہؔ کو یہ خبر مِلی، ”تمہاری بہُو تامارؔ نے زنا کیا جِس کی وجہ سے اَب وہ حاملہ ہے۔“
25 جَب اُسے باہر نکالا جا رہاتھا، تَب اُس نے اَپنے سسُر کو یہ پیغام بھیجا، ”میں جِس شخص سے حاملہ ہُوئی اُسی کی یہ چیزیں ہیں۔“ تامارؔ نے مزید کہا، ”تُم پہچانو، تو صحیح کہ یہ مُہر بازوبند اَور عصا کِس کا ہے؟“
26 یہُوداہؔ نے اُنہیں پہچان لیا اَور کہا، ”وہ مُجھ سے زِیادہ راستباز ہے کیونکہ مَیں نے اُسے اَپنے بیٹے شِلحؔ سے نہیں بیاہا۔“ اَور وہ پھر کبھی اُس کے پاس نہیں گیا۔
27 جَب اُس کے جننے کا وقت نزدیک آیا تو مَعلُوم ہُوا کہ اُس کے رِحم میں جُڑواں بچّے ہیں۔ 28 جَب وہ جننے لگی تو اُن میں سے ایک نے اَپنا ہاتھ باہر نکالا اَور دایہ نے سُرخ دھاگا لے کر اُس کی کلائی میں باندھ دیا اَور کہا، ”یہ پہلے پیدا ہُوا۔“ 29 لیکن جَب اُس نے اَپنا ہاتھ واپس کھینچ لیا تَب اُس کا بھایٔی پیدا ہُوا اَور اُس نے کہا، ”تُو زبردستی نکل پڑا!“ اَور اُس کا نام پیریزؔ[a] رکھا گیا۔ 30 تَب اُس کا بھایٔی جِس کی کلائی پر سُرخ دھاگا باندھا ہُوا تھا پیدا ہُوا اَور اُس کا نام زیراحؔ[b] رکھا گیا۔
<- پیدائش 37پیدائش 39 ->
Languages