5 اَبراہامؔ نے اَپنا سَب کچھ اِصحاقؔ کے لیٔے چھوڑ دیا تھا۔ 6 لیکن اَپنے جیتے جی اَبراہامؔ نے اَپنی داشتاؤں کے بیٹوں کو انعامات دے کر اُنہیں اَپنے بیٹے اِصحاقؔ کے پاس سے مشرقی مُلک کو بھیج دیا۔
7 اَبراہامؔ کی کُل عمر ایک سَو پچہتّر بَرس کی ہُوئی 8 تَب اَبراہامؔ نے آخِری سانس لی اَور عَین بُڑھاپے میں نہایت ضعیف اَور پُوری عمر کا ہوکر وفات پائی اَور اَپنے لوگوں میں جا مِلے۔ 9 اَور اُن کے بیٹے اِصحاقؔ اَور اِشمعیل نے مکفیلہؔ کے غار میں جو ممرےؔ کے نزدیک حِتّی ضُحرؔ کے بیٹے عِفرونؔ کے کھیت میں ہے اَبراہامؔ کو دفن کیا۔ 10 اُس کھیت کو اَبراہامؔ نے حِتّیوں سے خریدا تھا۔ وہیں اَبراہامؔ کو اُن کی بیوی سارہؔ کے پاس دفن کیا گیا۔ 11 اَبراہامؔ کی وفات کے بعد خُدا نے اُن کے بیٹے اِصحاقؔ کو برکت دی جو اُس وقت بیرلخیؔ روئی کے پاس رہتے تھے۔
21 اَور اِصحاقؔ نے اَپنی بیوی کے لیٔے یَاہوِہ سے دعا کی کیونکہ وہ بانجھ تھیں۔ یَاہوِہ نے اُن کی دعا سُنی اَور اُن کی بیوی رِبقہؔ حاملہ ہُوئیں۔ 22 اَور اُن کے رِحم میں دو بچّے آپَس میں زورآزمائی کرنے لگے۔ تَب رِبقہؔ نے کہا، ”میرے ساتھ اَیسا کیوں ہو رہاہے؟“ چنانچہ رِبقہؔ نے یَاہوِہ سے پُوچھا۔
23 یَاہوِہ نے رِبقہؔ سے فرمایا،
24 جَب اُن کی زچگی کا وقت آ گیا تَب پتہ چلا کہ اُن کے رِحم میں جُڑواں بچّے ہیں۔ 25 جو پہلے پیدا ہُوا وہ سُرخ تھا اَور اُس کا سارا جِسم بالوں سے بنے ہویٔے کپڑے کی طرح تھا۔ اِس لیٔے اُنہُوں نے اُس کا نام عیسَوؔ[a] رکھا۔ 26 اُس کے بعد اُس کا بھایٔی پیدا ہُوا جو اَپنے ہاتھ سے عیسَوؔ کی اِیڑی پکڑے ہویٔے تھا اِس لیٔے اُس کا نام یعقوب[b] رکھا گیا۔ جَب رِبقہؔ نے اُن دونوں کو پیدا کیا تَب اِصحاقؔ کی عمر ساٹھ بَرس کی تھی۔
27 پھر لڑکے بڑے ہو گئے اَور عیسَوؔ ماہر شِکاری بَن گیا۔ اُسے کھُلی جگہ میں رہنا پسند تھا۔ اَور یعقوب خاموش طبیعت اِنسان تھا اَور اُسے خیموں ہی میں رہنا اَچھّا لگتا تھا۔ 28 اِصحاقؔ جسے شِکار کا گوشت بہت پسند تھا عیسَوؔ سے پیار کرتا تھا لیکن رِبقہؔ یعقوب کو پیار کرتی تھی۔
29 ایک دفعہ یعقوب دال پکا رہے تھے کہ عیسَوؔ جنگل سے لَوٹا اَور اُسے سخت بھُوک لگ رہی تھی۔ 30 عیسَوؔ نے یعقوب سے کہا، ”جلدی کیجئے اَور مُجھے اِس لال لال شَے میں سے کچھ کھانے کو دیجئے کیونکہ مَیں بھُوک سے بےدم ہو رہا ہُوں۔“ (اِسی وجہ سے اُس کا نام اِدُوم پڑ گیا یعنی سُرخ۔)
31 یعقوب نے کہا، ”اَچھّا پہلے اَپنا پہلوٹھا ہونے کا حق مُجھے دے دو۔“
32 عیسَوؔ نے کہا، ”دیکھو، مَیں تو بھُوک سے مَرا جا رہا ہُوں؛ پہلوٹھے ہونے کا حق میرے کِس کام کا؟“
33 لیکن یعقوب نے کہا، ”پہلے آپ مُجھ سے قَسم کھاؤ۔“ اِس لیٔے عیسَوؔ نے قَسم کھا کر اَپنا پہلوٹھا ہونے کا حق یعقوب کے ہاتھ بیچ دیا۔
34 لہٰذا یعقوب نے عیسَوؔ کو کچھ روٹی اَور مسور کی دال جو آپ نے پکائی تھی دے دی اَور عیسَوؔ کھا پی کر اُٹھا اَور چلا گیا۔
Languages