3 اَبراہامؔ نے فرمایا، ”اَے میرے آقا! اگر مُجھ پر آپ کی نظرِکرم ہُوئی ہے تو خادِم کے پاس ٹھہرے بغیر نہ جانا۔ 4 مَیں تھوڑا پانی لاتا ہُوں۔ آپ سَب اَپنے پاؤں دھوکر اِس درخت کے نیچے آرام کریں۔“ 5 اَب جَب کہ آپ اَپنے خادِم کے ہاں تشریف لایٔے ہیں تو میں آپ کے واسطے کچھ کھانے کو لاتا ہُوں تاکہ آپ تازہ دَم ہو جایٔیں اَور تَب اَپنی راہ لیں۔
6 تَب اَبراہامؔ جلدی سے خیمہ میں سارہؔ کے پاس گئے اَور کہا، ”جلدی سے تین پیمانہ[a] نفیس آٹا لے کر اَور اُسے گُوندھ کر کُچھ پھُلکے بناؤ۔“
7 پھر اَبراہامؔ گائے بَیل کے گلّہ کی طرف دَوڑے اَور ایک بہترین اَور کمسِن بچھڑا لے کر خادِم کو دیا جِس نے اُسے جلدی سے پکایا۔ 8 تَب اَبراہامؔ نے کُچھ دہی اَور دُودھ اَور اُس بچھڑے کے سالن کو لے کر اُنہیں اُن کے سامنے رکھا۔ اَور جَب وہ کھا رہے تھے تو خُود اُن کے قریب درخت کے نیچے کھڑے رہے۔
9 اُنہُوں نے اَبراہامؔ سے پُوچھا، ”آپ کی بیوی سارہؔ کہاں ہے؟“
10 تَب اُن میں سے ایک نے کہا، ”مَیں اگلے بَرس مُقرّرہ وقت پر تمہارے پاس پھر واپس آؤں گا اَور آپ کی بیوی سارہؔ کے یہاں بیٹا پیدا ہوگا۔“
13 تَب یَاہوِہ نے اَبراہامؔ سے فرمایا، ”سارہؔ نے ہنس کر یہ کیوں کہا، ’کیا میرے ہاں واقعی بچّہ ہوگا جَب کہ مَیں ضعیف ہو چُکی ہُوں؟‘ 14 کیا یَاہوِہ کے لیٔے کویٔی کام مُشکل ہے؟ مَیں اگلے بَرس مُقرّرہ وقت پر تمہارے پاس پھر واپس آؤں گا اَور سارہؔ کے یہاں بیٹا پیدا ہوگا۔“
15 سارہؔ خوفزدہ ہو گئیں۔ اِس لیٔے سارہؔ نے جھُوٹ بولا اَور اِنکار کیا، ”مَیں تو نہیں ہنسی۔“
20 تَب یَاہوِہ نے فرمایا، ”سدُومؔ اَور عمورہؔ کے خِلاف شور بہت ہی بڑھ گیا ہے اَور اُن کا گُناہ اِس قدر سنگین ہو گیا ہے 21 کہ مَیں نیچے جا کر دیکھوں گا کہ جو کچھ اُنہُوں نے کیا ہے کیا وہ واقعی اُسی قدر بُرا ہے جَیسا شور مُجھ تک پہُنچا ہے اَور اگر یہ سچ نہیں تو مُجھے پتہ چل جائے گا۔“
22 چنانچہ وہ لوگ اُٹھ کر سدُومؔ کی طرف چل دئیے لیکن اَبراہامؔ یَاہوِہ کے حُضُور کھڑے رہے۔ 23 تَب اَبراہامؔ نے یَاہوِہ کے نزدیک جا کر کہا: ”کیا آپ راستبازوں کو بھی بدکاروں کے ساتھ نِیست و نابود کر دیں گے؟ 24 اگر اُس شہر میں پچاس راستباز ہُوں تو کیا ہوگا؟ کیا آپ واقعی اُسے تباہ کر ڈالیں گے اَور اُن پچاس راستبازوں کی خاطِر، جو اُس میں ہوں گے اُسے نہیں بخشیں گے؟ 25 آپ یہ ہرگز نہ ہونے دیں گے، راستبازوں کو بدکاروں کے ساتھ مار دیا جائے اَور راستبازوں اَور بدکاروں دونوں کے ساتھ یکساں سلُوک کیا جائے۔ آپ اَیسا ہرگز نہ ہونے دیں گے! کیا ساری دُنیا کا مُنصِف اِنصاف سے کام نہ لے گا؟“
26 یَاہوِہ نے فرمایا، ”اگر مَیں نے سدُومؔ کے شہر میں پچاس راستباز اِنسان بھی پایٔے تو مَیں اُن کی خاطِر اُس سارے مقام کو بخش دُوں گا۔“
27 تَب اَبراہامؔ نے پھر کہا: ”حالانکہ مَیں خاک اَور راکھ کے سِوا کچھ بھی نہیں ہُوں تو بھی مَیں نے اِتنی جُرأت کی کہ آقا سے بات کر سکوں۔ 28 اگر راستبازوں کی تعداد پینتالیس نکلے تو کیا آپ پانچ لوگوں کی خاطِر سارے شہر کو تباہ کر دیں گے؟“
29 اَبراہامؔ نے ایک بار پھر کہا، ”اگر وہاں صرف چالیس ملیں تو؟“
30 تَب اَبراہامؔ نے کہا، ”اَے آقا! اگر آپ خفا نہ ہو تو مَیں کچھ عرض کروں، اگر وہاں صِرف تیس راستباز ہی مِل سکے تو کیا ہوگا؟“
31 اَبراہامؔ نے کہا، ”اَے آقا، اَب تو مَیں زبان کھولنے کی جُرأت کر ہی چُکا ہُوں لہٰذا پُوچھتا ہُوں کہ اگر وہاں صِرف بیس مِل جائیں تو کیا ہوگا؟“
32 تَب اَبراہامؔ نے کہا، ”اگر آقا، خفا نہ ہو تو مَیں صِرف آخِری مرتبہ پھر عرض کروں! اگر وہاں صِرف دس ہی مِل سکے تو؟“
33 جَب یَاہوِہ اَبراہامؔ سے باتیں کرچکے تو وہ چلےگئے اَور اَبراہامؔ گھر لَوٹ آئے۔
<- پیدائش 17پیدائش 19 ->- a تین پیمانہ تقریباً 16 کِلوگرام
Languages