8 ” ’لیکن اَے اِسرائیل کے پہاڑو؛ تُم میری قوم اِسرائیل کے لیٔے شاخیں اَور پھل پیدا کروگے کیونکہ اُن کے واپس لَوٹنے کا وقت قریب آ گیا ہے۔ 9 مُجھے تمہاری فکر ہے اَور میری نظرِکرم تُم پر رہے گی۔ تُمہیں جوتا اَور بویا جائے گا۔ 10 اَور مَیں تُم پر بسنے والے لوگوں کی تعداد بڑھاؤں گا، یہاں تک کہ بنی اِسرائیل کے بھی شہر آباد کئے جایٔیں گے اَور کھنڈر دوبارہ تعمیر ہوں گے۔ 11 میں تُم پر اِنسانوں اَور حَیوانوں کی تعداد بڑھاؤں گا اَور وہ پھلیں گے اَور اُن کی تعداد میں اِضافہ ہوگا۔ میں پہلے کی طرح تُم پر لوگوں کو بساؤں گا اَور تُمہیں پہلے سے زِیادہ خُوشحال کروں گا۔ تَب تُم جان لوگے کہ مَیں یَاہوِہ ہُوں۔ 12 مَیں لوگوں کو بَلکہ خُود اَپنی اُمّت اِسرائیل کے لوگوں کو تُم پر چلنے پھرنے دُوں گا۔ وہ تمہارے مالک بَن جایٔیں گے اَور تُم اُن کی مِیراث ہوگے؛ اَور تُم پھر کبھی اُنہیں اَولاد سے محروم نہ کروگے۔
13 ” ’یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں کہ چونکہ لوگ تُجھ سے کہتے ہیں، ”تُو لوگوں کو کھا جاتی ہے اَور اَپنی قوم کو اَولاد سے محروم رکھتی ہے،“ 14 اِس لیٔے تُو پھر کبھی لوگوں کو نہ کھائے گی یا اَپنی قوم کو بے اَولاد نہ کرےگی۔ یہ یَاہوِہ قادر نے فرمایاہے۔ 15 اَب مَیں تُجھ کو قوموں کے اَور طعنے سُننے کا موقع نہ دُوں گا اَور نہ لوگوں کی طرف سے تیری تحقیر ہی ہوگی اَور نہ تُو اَپنی قوم کی ٹھوکر کا باعث ہوگی۔ یہ یَاہوِہ قادر کا فرمان ہے۔‘ “
22 ”اِس لیٔے بنی اِسرائیل سے کہہ کہ یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں: ’اَے بنی اِسرائیل، میں یہ سَب تمہاری خاطِر نہیں بَلکہ اَپنے پاک نام کی خاطِر کر رہا ہُوں جسے تُم نے اُن قوموں میں بےحُرمت کیا جہاں جہاں تُم گیٔے۔ 23 میں اَپنے عظیم نام کی تقدیس کروں گا جسے قوموں کے درمیان ناپاک کیا گیا اَور جسے تُم نے اُن کے درمیان بےحُرمت کیا۔ جَب مَیں اُن کی نظروں میں تمہارے درمیان مُقدّس ٹھہروں گا تَب سَب قومیں جان لیں گی کہ مَیں یَاہوِہ ہُوں۔ یہ یَاہوِہ قادر کا فرمان ہے۔
24 ” ’میں تُمہیں مُختلف قوموں میں سے نکال لاؤں گا اَور تُمہیں مُختلف ممالک میں سے جمع کروں گا اَور تُمہیں تمہارے اَپنے مُلک میں واپس لاؤں گا۔ 25 میں تُم پر پاک پانی چھڑکوں گا اَور تُم صَاف ہو جاؤگے۔ میں تُمہیں تمہاری تمام ناپاکی سے اَور تمہارے تمام بُتوں سے پاک کر دُوں گا۔ 26 میں تُمہیں نیا دِل بخشوں گا اَور تمہارے اَندر نئی رُوح ڈال دُوں گا۔ میں تمہارا سنگین دِل نکال کر تُمہیں گوشینؔ دِل عطا کروں گا۔ 27 اَور مَیں اَپنی رُوح تمہارے باطِن میں ڈال دُوں گا اَور تُمہیں اَپنے آئین پر عَمل کرنے کی تلقین کروں گا اَور اَپنی شَریعت پر پابند رہنے کے لیٔے آمادہ کروں گا۔ 28 تُم اُس مُلک میں بسوگے جو مَیں نے تمہارے آباؤاَجداد کو عطا کیا تھا؛ تُم میرے لوگ ہوگے اَور مَیں تمہارا خُدا ہُوں گا۔ 29 مَیں تُمہیں تمہاری ساری ناپاکی سے رِہائی بخشوں گا۔ میں اناج اُگاؤں گا اَور اُسے اِفراط بخشوں گا اَور تُم پر قحط نازل نہ ہونے دُوں گا۔ 30 میں درختوں کے پھل اَور زمین کی پیداوار بڑھاؤں گا تاکہ قحط کی وجہ سے قوموں کے درمیان پھر کبھی تمہاری رُسوائی نہ ہو۔ 31 تَب تُم اَپنی بُری روِشوں اَور بداعمالیوں کو یاد کروگے اَور اَپنے گُناہوں اَور مکرُوہ حرکتوں کے باعث اَپنے آپ کو حقیر سمجھنے لگوگے۔ 32 میں تُمہیں یہ جتانا چاہتا ہُوں کہ میں یہ سَب تمہاری خاطِر نہیں کر رہا۔ یہ یَاہوِہ قادر نے فرمایاہے۔ اَے بنی اِسرائیل، اَپنے چال چلن کے باعث شرمندہ ہو اَور خجالت اُٹھاؤ۔
33 ” ’یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں: جِس دِن میں تُمہیں تمہاری سَب گُناہوں سے پاک کروں گا اِسی دِن تمہارے شہر بساؤں گا اَور کھنڈر دوبارہ تعمیر کئے جایٔیں گے۔ 34 یہ غَیر آباد زمین جو راہ گزروں کی نظر میں ویران پڑی ہے، پھر سے زیرِ کاشت لائی جائے گی۔ 35 وہ کہیں گے، ”یہ زمین جو اُجاڑ دی گئی تھی، اَب باغِ عدنؔ کی مانند ہو گئی ہے اَورجو شہر کھنڈر بَن گے تھے، ویران ہو چُکے تھے اَور تباہ کر دئیے گیٔے تھے، وہ اَب مُستحکم اَور آباد ہو چُکے ہیں۔“ 36 تَب وہ قومیں جو تمہارے اطراف بچی ہیں، جان لیں گی کہ مَیں یَاہوِہ نے جو کچھ ڈھا دیا گیا تھا اِسے اَز سرِ نَو تعمیر کیا اَورجو ویران پڑا تھا اُس میں کاشت شروع کر دی۔ مَیں یَاہوِہ نے یہ فرمایاہے اَور مَیں یہ کرکے دِکھاؤں گا۔‘
37 ”یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں: پھر ایک بار مَیں بنی اِسرائیل کی درخواست مان لُوں گا اَور اُن کے لیٔے یہ کر دُوں گا: مَیں اُن لوگوں کی تعداد بھیڑوں کی طرح بڑھاؤں گا۔ 38 مَیں اُن کو مُقرّرہ عیدوں کے موقعوں پر یروشلیمؔ میں ذبح کئے جانے والے اَن گِنت گلّوں کی مانند بڑھاؤں گا۔ اِس طرح سے کھنڈر بنے ہُوئے شہر لوگوں کے غولوں سے بھر دئیے جایٔیں گے۔ تَب وہ جان لیں گے کہ مَیں یَاہوِہ ہُوں۔“
<- حزقی ایل 35حزقی ایل 37 ->
Languages