5 فَرعوہؔ کی بیٹی دریائے نیل میں غُسل کرنے واسطے آئی اَور اُس کی لونڈی سہیلیاں دریا کے کنارے کنارے ٹہل رہی تھیں۔ فَرعوہؔ کی بیٹی نے سَرکنڈوں میں ٹوکرے کو دیکھ کر اَپنی ایک خادِمہ کو بھیجا کہ اُسے اُٹھا لایٔے۔ 6 جَب اُس نے اُسے کھولا تو دیکھا کہ اُس میں بچّہ ہے۔ بچّہ رو رہاتھا اَور اُسے اُس پر رحم آیا اَور اُس نے کہا، ”یہ تو کویٔی عِبرانی بچّہ ہے۔“
7 تَب اُس بچّہ کی بہن نے فَرعوہؔ کی بیٹی سے پُوچھا، ”کیا میں جا کر کسی عِبرانی عورت کو لے آؤں جو آپ کے لیٔے اِس بچّہ کو دُودھ پِلایا کرے؟“
8 فَرعوہؔ کی بیٹی نے جَواب دیا، ”ہاں جاؤ!“ اَور وہ لڑکی جا کر اُس بچّہ کی ماں کو بُلا لائی۔ 9 تَب فَرعوہؔ کی بیٹی نے اُس سے کہا، ”اِس بچّہ کو لے جا اَور میرے لیٔے دُودھ پِلا اَور مَیں تُمہیں تمہاری اُجرت دیا کروں گی۔“ لہٰذا وہ عورت اُس بچّہ کو لے جا کر دُودھ پِلانے لگی۔ 10 اَور جَب وہ بچّہ کچھ بڑا ہو گیا تو وہ اُسے فَرعوہؔ کی بیٹی کے پاس لے گئی اَور وہ اُس کا بیٹا بَن گیا اَور اُس نے اُس کا نام یہ کہتے ہویٔے مَوشہ[a] رکھا، ”مَیں نے اُسے پانی سے نکالا۔“
14 اُس اِنسان نے کہا، ”آپ کو کِس نے ہم پر حاکم اَور قاضی مُقرّر کیا ہے؟ جِس طرح آپ نے اُس مِصری کو قتل کر ڈالا تھا کیا مُجھے بھی اُسی طرح مار ڈالنا چاہتے ہیں؟“ تَب مَوشہ ڈر گئے اَور اُنہُوں نے سوچا، ”جو کُچھ مَیں نے کیا تھا یقیناً اُس کا راز کھُل گیا ہے۔“
15 جَب فَرعوہؔ نے یہ سُنا تو اُس نے مَوشہ کو مار ڈالنے کی کوشش کی، لیکن مَوشہ فَرعوہؔ کی حُضُوری سے چلےگئے اَور مِدیان میں رہنے کے لیٔے فرار ہو گئے، اَور وہاں وہ ایک کنوئیں کے پاس جا کر بیٹھ گیٔے۔ 16 مِدیان کے ایک کاہِنؔ کی سات بیٹیاں تھیں۔ وہ اَپنے باپ کی بھیڑ بکریوں کو پانی پِلانے کے لیٔے آئیں تاکہ پانی کنوئیں سے نکال کر حوض میں بھر دیں۔ 17 اَور کچھ چرواہے بھی وہاں چلے آئے جنہوں نے اُن کو وہاں سے ہٹا دیا، لیکن مَوشہ اُٹھے اَور اُن کی مدد کو آ گئے اَور اُنہُوں نے اُن کے گلّہ کو پانی پِلایا۔
18 جَب وہ لڑکیاں اَپنے باپ رِعوایلؔ کے پاس واپس آئیں، ”تو اُس نے پُوچھا کہ آج تُم اِتنی جلدی کیسے آ گئیں؟“
19 اُنہُوں نے جَواب دیا، ”ایک مِصری نے ہمیں چرواہوں کے ہاتھ سے بچایا۔ اُس نے ہمارے لیٔے پانی بھر بھر کر نکالا اَور بھیڑ بکریوں کو بھی پِلایا۔“
20 رِعوایلؔ نے اَپنی لڑکیوں سے پُوچھا، ”وہ کہاں ہے؟ تُم اُسے چھوڑ کیوں آئیں؟ اُسے بُلا لاؤ کہ وہ کھانا کھالے۔“
21 اَور مَوشہ اُس اِنسان کے ساتھ رہنے پر رضامند ہو گئے اَور اُس اِنسان نے اَپنی بیٹی ضِفورہؔ کی شادی مَوشہ سے کر دی۔ 22 اَور ضِفورہؔ کے ایک بیٹا ہُوا۔ مَوشہ نے اُس کا نام یہ کہتے ہویٔے گیرشوم[b] رکھا، ”میں پردیس مُلک میں اجنبی ہُوں۔“
23 اَور اُس طویل عرصہ کے دَوران وہ مِصر کا بادشاہ مَر گیا اَور بنی اِسرائیل اَپنی غُلامی میں کراہنے اَور رونے لگے اَور غُلامی کے باعث مدد کے لیٔے اُن کی آہ و زاری خُدا تک جا پہُنچی۔ 24 اَور خُدا نے اُن کا کراہنا سُنا اَور خُدا نے اَپنے عہد کو جو اَبراہامؔ، اِصحاقؔ اَور یعقوب کے ساتھ باندھا تھا یاد کیا۔ 25 لہٰذا خُدا نے اِسرائیل کی طرف نگاہ کی اَور اُن کے حالات پر غور فرمایا۔
<- خُروج 1خُروج 3 ->
Languages