9 چنانچہ کام کرنے والے کو اَپنی محنت و مشقّت سے کیا فائدہ ہوتاہے؟ 10 مَیں نے اُس بھاری بوجھ کو بغور احتیاط سے تفتیش کی ہے جسے خُدا نے بنی آدمؔ کے کندھوں پر رکھا ہے۔ 11 خُدا نے ہر ایک چیز کو اَپنے وقت کے لیٔے خُوبصورت بنایا ہے۔ اَور اُس نے اِنسان کے دِل میں اَبدیّت بھی ڈالی ہے۔ گو اِنسان خُدا کے کاموں کو جو اُس نے شروع سے لے کر آخِر تک کیا ہے اُسے کبھی سمجھ نہیں سَکتا ہے۔ 12 میں جانتا ہُوں کہ اِنسان کے لیٔے اِس سے بہتر کچھ نہیں کہ وہ خُوش رہے اَور جَب تک زندہ رہے نیکی کرنے میں مشغُول رہے۔ 13 اَور ہر ایک شخص کھائے، پیئے اَور اَپنی تمام محنت و مشقّت کے کاموں کے پھل سے مطمئن رہے۔ یہ بھی خُدا کی طرف سے اِنسانوں کے لیٔے بخشش ہے۔ 14 میں جانتا ہُوں کہ جو کچھ خُدا کرتا ہے، وہ ہمیشہ تک قائِم رہے گا۔ اُس میں نہ کچھ بڑھایا جا سَکتا اَور نہ کچھ گھٹایا جا سَکتا ہے۔ اَور خُدا نے اَیسا اِس لیٔے کیا ہے کہ سَب اِنسان اُس کا خوف مانیں۔
16 اِس کے علاوہ مَیں نے دُنیا میں یہ بھی دیکھا:
17 اَور مَیں نے اَپنے دِل سے کہا،
18 مَیں نے یہ بھی کہا، ”جہاں تک اِنسانوں کا تعلّق ہے، خُدا اُن کی آزمائش کرتا ہے تاکہ وہ سمجھ لیں کہ وہ حَیوانوں کی مانند ہیں۔ 19 کیونکہ اِنسان اَور حَیوان کا ایک ہی اَنجام ہے۔ اِنسان اَور حَیوان دونوں سانس لیتے ہیں۔ جَیسے ایک مرتا ہے وَیسے ہی دُوسرا بھی مرتا ہے۔ اِنسان حَیوان سے کسی بھی طرح سے بہتر نہیں ہے کیونکہ سَب کچھ باطِل ہی ہے۔ 20 سَب کی مَنزل ایک ہے۔ سَب خاک سے بنے ہیں اَور خاک میں دوبارہ لَوٹ جاتے ہیں۔“ 21 کسے مَعلُوم ہے کہ اِنسان کی رُوح اُوپر آسمان کی طرف اَور حَیوان کی نیچے عالمِ اَرواح میں جاتی ہے؟
22 غرض مَیں نے سمجھ لیا کہ کسی اِنسان کے لیٔے اِس سے بہتر کچھ نہیں کہ وہ اَپنے کاموں میں خُوش رہے، یہی اُس کا حِصّہ ہے۔ کیونکہ اُسے یہ دیکھنے کے لیٔے کہ اُس کے بعد کیا ہوگا، کون اُسے واپس لا سَکتا ہے؟
<- واعظ 2واعظ 4 ->
Languages