1 اَور ساؤلؔ اِستِفنُسؔ کے قتل میں شامل تھا۔
14 جَب یروشلیمؔ میں رسولوں نے سُنا کہ سامریہؔ کے لوگوں نے خُدا کا کلام قبُول کر لیا، تو اُنہُوں نے پطرس اَور یُوحنّا کو سامریہؔ بھیجا۔ 15 جَب وہ وہاں پہُنچے تو اُنہُوں نے اُن لوگوں کے لیٔے دعا کی کہ وہ پاک رُوح پائیں، 16 اِس لیٔے کہ ابھی پاک رُوح اُن میں سے کسی پر نازل نہ ہُوا تھا؛ اُنہُوں نے صِرف خُداوؔند یِسوعؔ کے نام پر پاک غُسل لیا تھا۔ 17 تَب پطرس اَور یُوحنّا نے اُن پر ہاتھ رکھے اَور اُنہُوں نے بھی پاک رُوح پایا۔
18 جَب شمعُونؔ نے دیکھا کہ رسولوں کے ہاتھ رکھنے سے پاک رُوح ملتا ہے، تو اُس نے رُوپے لاکر رسولوں کو پیش کیٔے 19 اَور کہا، ”مُجھے بھی اِختیار دو کہ میں جِس کسی پر ہاتھ رکھوں وہ پاک رُوح پایٔے۔“
20 پطرس نے جَواب میں فرمایا: ”تیرے رُوپے تیرے ساتھ غارت ہوں، کیونکہ تُونے رُوپیَوں سے خُدا کی اِس نِعمت کو خریدنا چاہا! 21 اِس مُعاملہ میں تیرا کویٔی بھی حِصّہ یا بَخرہ نہیں، کیونکہ خُدا کے نزدیک تیرا دِل صَاف نہیں ہے۔ 22 اَپنی اِس بدنیّتی سے تَوبہ کر اَور خُداوؔند سے دعا کر کہ شاید وہ اِس دِل کی بُری نیّت کے لیٔے تُجھے مُعاف کر دے۔ 23 کیونکہ مَیں دیکھتا ہُوں کہ تُو شدید تلخی اَور ناراستی کے بند میں گِرفتار ہے۔“
24 تَب شمعُونؔ نے جَواب دیا، ”میرے لیٔے خُداوؔند سے دعا کرو کہ جو کچھ تُم نے کہا ہے وہ مُجھے پیش نہ آئے۔“
25 تَب رسول خُداوؔند کا کلام سُنانے اَور یِسوعؔ کی گواہی دینے کے بعد یروشلیمؔ لَوٹ گیٔے، اَور راستے میں سامریوں کے کیٔی قصبوں میں بھی خُوشخبری سُناتے گیٔے۔
30 فِلِپُّسؔ دَوڑکر رتھ کے نزدیک پہُنچے اَور رتھ سوار کو یَشعیاہ نبی کا صحیفہ پڑھتے ہویٔے سُنا۔ فِلِپُّسؔ نے اُس سے پُوچھا، ”کیا جو کچھ تو پڑھ رہاہے اُسے سمجھتا بھی ہے؟“
31 اُس نے مِنّت کرکے کہا، ”میں کیسے سمجھ سَکتا ہوں، جَب تک کہ کویٔی مُجھ سے اِس کی وضاحت نہ کرے؟“ تَب اُس نے فِلِپُّسؔ کو مدعو کیا کہ اُس کے ساتھ رتھ میں آبیٹھیں۔
32 کِتاب مُقدّس میں سے جو خوجہ پڑھ رہاتھا یہ تھا:
34 خوجہ نے فِلِپُّسؔ سے کہا، ”مہربانی سے مُجھے بتائیے، نبی یہ باتیں کِس کے بارے میں کہتاہے۔ خُود یا کسی اَور کے بارے میں؟“ 35 فِلِپُّسؔ نے کِتاب مُقدّس کے اُسی حِصّہ سے شروع کرکے اُسے یِسوعؔ کے بارے میں خُوشخبری سُنایٔی۔
36 سفر کرتے کرتے وہ راستے میں ایک اَیسی جگہ پہُنچے جہاں پانی تھا۔ خوجہ نے کہا، ”دیکھئے، یہاں پانی ہے۔ اَب مُجھے پاک غُسل لینے سے کون سِی چیز روک سکتی ہے؟“ 37 فِلِپُّسؔ نے کہا، ”اگر تُو دِل و جان سے ایمان لایٔے، تو پاک غُسل لے سَکتا ہے۔“ اُس نے جَواب دیا، ”میں ایمان لاتا ہُوں کہ یِسوعؔ خُدا کے بیٹے ہیں۔“[c] 38 پھر آپ نے رتھ کے ٹھہرانے کا حُکم دیا۔ پس دونوں فِلِپُّسؔ اَور خوجہ پانی میں اُترے اَور فِلِپُّسؔ نے اُسے پاک غُسل دیا۔ 39 جَب وہ پانی میں سے باہر نکلے تو خُداوؔند کا رُوح فِلِپُّسؔ کو وہاں سے اُٹھالے گیا اَور خوجہ نے اُنہیں پھر نہ دیکھا لیکن وہ خُوشی، خُوشی اَپنی جگہ پر روانہ ہو لیا۔ 40 تاہم، فِلِپُّسؔ، اشدُودؔ میں نظر آئے اَور وہاں سفر کرتے اَور سارے قصبوں میں خُوشخبری سُناتے ہویٔے قَیصؔریہ میں پہُنچ گیٔے۔
<- اعمال 7اعمال 9 ->
Languages