3 اگلے دِن جَب جہاز صیؔدا میں رُکا تو یُولِیُسؔ نے پَولُسؔ پر مہربانی کرکے اُنہیں اَپنے دوستوں سے مُلاقات کرنے کی اِجازت دے دی تاکہ اُن کی خاطِر تواضع ہو سکے۔ 4 وہاں سے ہم پھر جہاز پر روانہ ہویٔے اَور جَزِیرہ سائپرسؔ کی آڑ میں ہوکر گزرے کیونکہ ہَوا ہمارے مُخالف تھی۔ 5 پھر ہم کِلکِیؔہ اَور پَمفِیلہ کے سمُندری ساحِل سے گزر کر آگے بڑھے تو لوکیہؔ کے شہر مُورہؔ میں جا اُترے۔ 6 فَوجی کپتان کو وہاں الیکزینڈریا کا ایک سمُندری جہاز مِل گیا جو اِطالیہؔ جا رہاتھا۔ اُس نے ہمیں اُس پر سوار کرا دیا۔ 7 ہم بہت دِنوں تک آہستہ آہستہ آگے بڑھتے رہے اَور کِندُسؔ کے سامنے جا پہُنچے لیکن تیز ہَوا کی وجہ سے ہمیں آگے جانے میں دُشواری محسُوس ہویٔی لہٰذا ہم سلمونؔے کے سامنے سے ہوکر کریتےؔ کی آڑ میں ہو لیٔے۔ 8 اَور بڑی مُشکل سے ساحِل کے ساتھ ساتھ آگے بڑھتے ہویٔے حسیِنؔ بندرگاہ میں پہُنچے جہاں سے لَسیؔہ شہر نزدیک تھا۔
9 وقت بہت ضائع ہو چُکاتھا، وہاں ہمیں کیٔی دِنوں تک رُکنا پڑا کیونکہ روزہ کا دِن[a] گزر چُکاتھا اَور اُس موسم میں سمُندری سفر اَور بھی پُرخطر ہو جاتا ہے۔ اِس لیٔے پَولُسؔ نے اُنہیں نصیحت کے طور پر کہا، 10 ”اَے بھائیو، مُجھے لگتا ہے کہ ہمارا سفر پُرخطر ثابت ہوگا اَور نہ صِرف مال و اَسباب اَور سمُندری جہاز کا بَلکہ ہماری جانوں کا بھی خطرہ ہے۔“ 11 لیکن فَوج کے کپتان نے پَولُسؔ کی بات سُننے کی بجائے جہاز کے کپتان اَور مالک کی باتوں کو زِیادہ اہمیّت دی۔ 12 چونکہ وہ بندرگاہ سردی کا موسم گُزارنے کے لیٔے موزوں نہ تھی، اِس لیٔے اکثریت کا فیصلہ یہ تھا کہ ہم آگے بڑھیں اَور اُمّید رکھیں کہ فِینِکسؔ میں پہُنچ کر سردی کا موسم وہاں گزار سکیں گے۔ یہ کریتےؔ کی ایک بندرگاہ تھی جِس کا رُخ شمال مشرق اَور جُنوب مشرق کی جانِب تھا۔
21 لوگوں کو کھانا پینا چھوڑے ہویٔے کیٔی دِن ہو گئے تھے اِس لیٔے پَولُسؔ نے اُن کے بیچ میں کھڑے ہوکر کہا: ”اَے بھائیو، اگر تُم میری نصیحت قبُول کرلیتے اَور کریتےؔ سے آگے روانہ ہی نہ ہوتے تو تُمہیں اِس نُقصان اَور تکلیف کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ 22 لیکن اَب مَیں تمہاری مِنّت کرتا ہُوں کہ حوصلہ نہ ہارو۔ تُم میں سے کسی کا بھی جانی نُقصان نہ ہوگا؛ صِرف سمُندری جہاز تباہ ہو جائے گا۔ 23 کیونکہ میرے خُدا جِس کی میں عبادت کرتا ہُوں اُس کا فرشتہ کل رات میرے پاس آ کھڑا ہُوا 24 اَور کہنے لگا، ’پَولُسؔ، خوفزدہ مت ہو۔ تیرا قَیصؔر کے حُضُور میں پیش ہونا لازِم ہے؛ اَور تیری خاطِر خُدا اَپنے فضل سے اِن سَب کی جان سلامت رکھےگا جو جہاز پر تیرے ہم سفر ہیں۔‘ 25 اِس لیٔے صاحِبو، تُم اَپنا حوصلہ بُلند رکھو، میرا ایمان ہے کہ میرے خُدا نے جو کچھ مُجھ سے فرمایاہے وُہی ہوگا۔ 26 تاہم، ہمیں ضروُر کسی جزیرے پر ٹھہرنا ہوگا۔“
33 صُبح ہونے سے ذرا پہلے پَولُسؔ نے سَب کی مِنّت کی کہ کچھ کھا لیں۔ آپ نے کہا، ”پچھلے چودہ دِن سے، تُم لوگ شک و شُبہ میں پڑے ہویٔے ہو اَور تُم نے کھانے کو چھُوا تک نہیں۔ 34 اَب مَیں تمہاری مِنّت کرتا ہُوں کہ کچھ کھالو کیونکہ تمہاری سلامتی اِسی پر موقُوف ہے اَور یقین رکھو کہ تُم میں سے کسی کے سَرکا ایک بال بھی بیکا نہ ہوگا۔“ 35 جَب وہ یہ کہہ چُکے تو اُنہُوں نے کچھ روٹی لی اَور سَب کے سامنے خُدا کا شُکرادا کیا اَور روٹی توڑ کر کھانے لگے۔ 36 اِس سے سَب کی ہِمّت بندھی اَور وہ بھی کھانے لگے۔ 37 ہم سَب مِل کر دو سَو چھہتّر آدمی تھے جو اُس سمُندری جہاز پر سوار تھے۔ 38 جَب وہ پیٹ بھرکرکھا چُکے تو اُنہُوں نے سارا گیہُوں سمُندر میں پھینکنا شروع کر دیا تاکہ سمُندری جہاز ہلکا ہو جائے۔
39 جَب دِن نِکلا تو اُنہُوں نے خُشکی کو نہ پہچانا لیکن ایک کھاڑی دیکھی جِس کا کنارہ نظر آیا۔ اُنہُوں نے صلاح کی کہ اگر ممکن ہو تو سمُندری جہاز کو اُسی پر چڑھا لیں۔ 40 پس لنگر کھول کر سمُندر میں چھوڑ دئیے اَور پتواروں کی رسّیاں بھی کھول دیں۔ سامنے کا بادبان کھول کر اُوپر چڑھا دیا اَور کنارے کی طرف بڑھے۔ 41 لیکن سمُندری جہاز خُشکی پر پہُنچ کر ریت پر جا ٹِکا۔ اُس کے سامنے والا اگلا حِصّہ تو کنارے پر ریت میں دھنس گیا لیکن پچھلا حِصّہ لہروں کے زور سے ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا۔
42 سپاہیوں کی صلاح تھی کہ قَیدیوں کو مار ڈالیں تاکہ اُن میں سے کویٔی تَیر کر بھاگ نہ جائے۔ 43 لیکن فَوجی کپتان نے پَولُسؔ کی زندگی محفوظ رکھنے کے لیٔے اُنہیں اَیسا کرنے سے روک دیا اَور حُکم دیا کہ جو تَیر سکتے ہیں وہ پہلے کُود جایٔیں اَور خُشک زمین پر پہُنچ کر جان بچا لیں۔ 44 باقی مُسافروں نے لکڑی کے تختوں اَور سمُندری جہاز کی دُوسری چیزوں کی مدد سے کسی نہ کسی طرح اَپنی جان بچائی۔ پس اِس طرح سَب کے سَب خُشک زمین پر بحِفاظت پہُنچ گیٔے۔
<- اعمال 26اعمال 28 ->- a روزہ کا دِن یعنی اِس روزہ کا تعلّق یومِ کفّارہ سے ہے۔ یہُودی لوگ اِس دِن قُربانیاں بھی چڑھاتے تھے۔ جو ستمبر کے آخِری یا اکتوبر مہینے کے پہلے ہفتہ میں پڑتا تھا۔
- b ڈونگی یعنی ایک چُھوٹی کشتی جو جانیں بچانے کے لیٔے جہاز کے پیچھے بندھی ہوتی ہے خَراب موسم کے باعث اِسے جہاز کے اُوپر چڑھایا جاتا ہے۔
- c بحرِ اَدریہ قدیم زمانے میں اِس نام سے مُراد وہ علاقہ ہے جو اِٹلی کے جُنوب میں اَچھّی طرح سے پھیلا ہُوا تھا۔
- d ایک سَو بیس فِٹ یا تقریباً 37مِیٹر
- e نوّے فِٹ یا تقریباً 27مِیٹر
Languages