17 میلِیتُسؔ پہُنچ کر پَولُسؔ نے اِفِسُسؔ سے جماعت کے بُزرگوں کو بُلا بھیجا۔ 18 جَب وہ آئے تو پَولُسؔ نے اُن سے فرمایا: ”تُم جانتے ہو کہ جِس دِن سے مَیں نے آسیہؔ میں قدم رکھا ہے، میری زندگی تمہارے درمیان کیسی رہی ہے۔ 19 میں بڑی فروتنی کے ساتھ آنسُو بہا بہا کر خُداوؔند کی خدمت کرتا رہا جَب کہ مُجھے یہُودیوں کی بڑی بڑی سازشوں کا سامنا کرنا پڑ رہاتھا۔ 20 اَورجو باتیں تمہارے لیٔے فائدہ مند تھیں اُنہیں مَیں نے بغیر کسی جِھجَک کے بَیان کیا بَلکہ جو کچھ بھی سِکھایا سرعام اَور گھر گھرجاکر سِکھایا۔ 21 میں یہُودیوں اَور یُونانیوں دونوں کے سامنے گواہی دیتا رہا کہ وہ خُدا کے حُضُور میں تَوبہ کریں اَور ہمارے خُداوؔند یِسوعؔ پر ایمان لائیں۔
22 ”دیکھو! میں، رُوح کا اسیر ہوکر یروشلیمؔ جا رہا ہُوں اَور مُجھے مَعلُوم نہیں وہاں مُجھ پر کیا گزرے گی۔ 23 صِرف اِتنا جانتا ہُوں کہ پاک رُوح کی طرف سے مُجھے ہر شہر میں یہ آگاہی ملتی رہی کہ قَید اَور مُصیبتوں کی زنجیریں میری مُنتظر ہیں۔ 24 لیکن، میری جان میرے لیٔے کویٔی قدر و قیمت نہیں رکھتی؛ میں تو بس یہ چاہتا ہُوں کہ میری دَوڑ پُوری ہو جائے اَور مَیں خُدا کے فضل کی خُوشخبری سُنانے کا کام جو خُداوؔند یِسوعؔ نے مُجھے دیا ہے کو پُوری صداقت سے کرلُوں۔
25 ”اَب مَیں جانتا ہُوں کہ تُم سبھی جِن کے درمیان میں بادشاہی کی تبلیغ کرتا رہا ہُوں تُم سَب مُجھے پھر نہ دیکھ پاؤگے۔ 26 لہٰذا، آج مَیں تُمہیں قطعی طور پر کہے دیتا ہُوں کہ جو لوگ ہلاک کیٔے جایٔیں گے، میں اُن کے خُون سے بَری ہُوا۔ 27 کیونکہ مَیں تُمہیں بغیر کسی جِھجَک کے سِکھاتا رہا ہُوں کہ خُدا کا مقصد تمہارے لیٔے کیا ہے۔ 28 پس اَپنا اَور سارے گلّے کا خیال رکھو جِس کے تُم پاک رُوح کی طرف سے نگہباں مُقرّر کیٔے گیٔے ہو تاکہ خُدا کی[a] جماعت کی نگہبانی کرو جسے خُدا نے خاص اَپنے ہی خُون سے[b] خریدا ہے۔ 29 میں جانتا ہُوں کہ میرے چلے جانے کے بعد پھاڑ ڈالنے والے بھیڑئے تمہارے درمیان آ گھُسیں گے اَور گلّے کو نہیں چھوڑیں گے۔ 30 بَلکہ تُم ہی میں سے اَیسے لوگ اُٹھ کھڑے ہوں گے جو سچّائی کو توڑ مروڑ کر پیش کریں گے تاکہ شاگردوں کو اَپنی طرف کر لیں۔ 31 لہٰذا خبردار رہو! یاد رکھو کہ میں تین بَرس تک رات دِن آنسُو بہا بہا کر ہر ایک کو اِن خطروں سے آگاہ کرتا رہا ہُوں۔
32 ”اَب مَیں تُمہیں خُدا کے اُس فضل کے کلام کے سُپرد کرتا ہُوں، جو تمہاری ترقّی کا باعث ہو سَکتا ہے اَور تُمہیں اُس مِیراث کا حقدار بنا سَکتا ہے جو تُم برگُزیدہ لوگوں کے لیٔے ہے۔ 33 مَیں نے کسی کے سونے، چاندی یا کپڑے کا لالچ نہیں کیا۔ 34 تُم خُود جانتے ہو کہ میرے اَپنے ہاتھوں نے میری اَپنی اَور میرے ساتھیوں کی ضروُرتیں پُوری کی ہیں۔ 35 ہم کِس طرح محنت کرکے کمزوروں کو سنبھال سکتے ہیں؟ یہ مَیں نے تُمہیں کرکے دِکھایا۔ ہم خُداوؔند یِسوعؔ کے الفاظ یاد رکھیں: ’دینا لینے سے زِیادہ مُبارک ہے۔‘ “
36 اِن باتوں کے بعد، پَولُسؔ نے اُن سَب کے ساتھ گھُٹنے ٹیک کر دعا کی۔ 37 وہ سَب بہت روئے اَور گلے مِل کر پَولُسؔ کے بوسے لیٔے۔ 38 اَور پَولُسؔ کے جِن الفاظ نے خاص طور پر اُنہیں غمگین کیا یہ تھے کہ تُم مُجھے پھر نہ دیکھ پاؤگے۔ تَب وہ پَولُسؔ کو سمُندری جہاز تک چھوڑنے گیٔے۔
<- اعمال 19اعمال 21 ->
Languages