5 پطرس تو سخت قَید میں تھے مگر ساری جماعت آپ کے لیٔے خُدا سے دِل و جان سے دعا میں مشغُول تھی۔
6 ہیرودیسؔ کے آپ کو لوگوں کے سامنے لانے سے ایک رات پہلے، جَب پطرس دو پہرےداروں کے درمیان زنجیروں سے جکڑے ہویٔے پڑے سو رہے تھے، اَور سپاہی قَیدخانہ کے دروازہ پر پہرا دے رہے تھے۔ 7 تو اَچانک خُداوؔند کا ایک فرشتہ ظاہر ہُوا اَور ساری کوٹھری مُنوّر ہو گئی۔ فرشتہ نے پطرس کے ایک طرف مارا آپ کو جگایا۔ اَور کہا، ”اُٹھ، جلدی کر!“ اَور زنجیریں پطرس کی کلائیوں میں سے کھُل کر گرگئیں۔
8 فرشتہ نے پطرس سے کہا، ”اَپنی کمر باندھ اَور جُوتی پہن لے۔“ پطرس نے اَیسا ہی کیا۔ پھر کہا، اَپنی چوغہ پہن لے اَور میرے پیچھے پیچھے چلا آ۔ 9 پطرس اُس کے پیچھے پیچھے قَیدخانہ سے باہر نکل آئے، لیکن آپ کو مَعلُوم نہ تھا کہ فرشتہ جو کچھ کر رہاہے وہ حقیقت ہے یا وہ کویٔی رُویا دیکھ رہے ہیں۔ 10 وہ پہرا کے پہلے اَور پھر دُوسرے حلقہ میں سے نکل کر باہر آئے اَور لوہے کے پھاٹک کے پاس پہُنچے جو شہر کی طرف کھُلتا تھا۔ وہ پھاٹک اُن کے لیٔے اَپنے آپ ہی کھُل گیا، اَور وہ اُس میں سے گزرے۔ باہر نکل کر کوچہ کے آخِر تک پہُنچے اَچانک فرشتہ پطرس کو چھوڑکر چلا گیا۔
11 پطرس کے حواس دُرست ہویٔے تو وہ کہنے لگے، ”اَب مُجھے پُورا یقین ہو گیا کہ خُداوؔند نے اَپنے فرشتہ کو بھیج کر مُجھے ہیرودیسؔ کے پنجہ سے چھُڑا لیا اَور یُوں یہُودیوں کے اِرادہ کو ناکام کر دیا۔“
12 جَب وہ اِس واقعہ پر غور کر چُکے تو مریمؔ کے گھر آئے جو اُن یُوحنّا کی ماں تھیں جو مرقُسؔ کہلاتےتھے، جہاں بہت سے لوگ جمع ہوکر دعا کر رہے تھے۔ 13 پطرس نے باہر کا دروازہ کھٹکھٹایا، تو ایک کنیز جِس کا نام رُدیؔ تھا دروازہ کھولنے آئی۔ 14 جَب اُس نے پطرس کی آواز پہچان لی تو اِس قدر خُوش ہویٔی کہ دروازہ کھولے بغیر ہی واپس دَوڑی آئی اَور کہنے لگی، ”پطرس باہر دروازہ پر ہیں!“
15 اُنہُوں نے کہا، کیا تو پاگل ہو گئی ہے، لیکن جَب اُس نے اِصرار کیا کہ وہ پطرس ہی ہیں تو وہ کہنے لگے، ”پطرس کا فرشتہ ہوگا۔“
16 لیکن پطرس باہر دروازہ کھٹکھٹاتےرہے۔ جَب اُنہُوں نے آکر دروازہ کھولا، تو پطرس کو دیکھ کر حیران رہ گیٔے۔ 17 پطرس نے اُنہیں ہاتھ سے اِشارہ کیا کہ خاموش رہیں اَور پھر اَندر آکر سارا واقعہ کہہ سُنایا کہ کِس طرح خُداوؔند نے اُنہیں قَیدخانہ سے باہر نکالا۔ آپ نے فرمایا، ”یعقوب اَور دُوسرے مسیحی بھائیوں اَور بہنوں کو بھی اِس کی خبر کردینا“ اَور خُود کسی دُوسری جگہ کے لیٔے روانہ ہو گئے۔
18 صُبح ہوتے ہی، سپاہیوں میں ہنگامہ برپا ہُوا کہ پطرس کے ساتھ کیا ہُواہے۔ 19 جَب ہیرودیسؔ نے آپ کی مُکمّل تلاش کی لیکن نہ پایا تو اُس نے پہرےداروں کا مُعائنہ کیا اَور حُکم دیا کہ اُن کو سزائے موت دی جائے۔
21 لہٰذا ہیرودیسؔ نے ایک دِن مُقرّر کیا، اَور اَپنا شاہی لباس پہنا اَور تختِ عدالت پر بیٹھ کر لوگوں کو ایک عوامی خِطاب کیا۔ 22 لوگوں نے سُنا تو پُکارنے لگے، ”یہ اِنسان کی نہیں بَلکہ کویٔی ایک معبُود کی آواز ہے۔“ 23 چونکہ، ہیرودیسؔ نے خُدا کی تمجید نہ کی اِس لیٔے اُس پر اُسی دَم خُداوؔند کے فرشتہ کی اَیسی مار پڑی کہ اُس کے جِسم کو کیڑے کھاگئے اَور وہ مَر گیا۔
24 لیکن خُدا کا کلام ترقّی کرتا اَور پھیلتا چلا گیا۔
Languages