3 تَب اُن میں سے ایک نے کہا، ”مہربانی کرکے آپ بھی اَپنے خادِموں کے ساتھ چلیں۔“
6 مَرد خُدا نے دریافت کیا، ”وہ کہاں گِری تھی؟“ جَب اُس نے وہ جگہ دِکھائی تو الِیشعؔ نے ایک لکڑی کاٹ کر وہاں پھینک دی جِس سے لوہا پانی پر تیرنے لگا۔ 7 تَب الِیشعؔ نے کہا، ”اُسے اُٹھالے۔“ تَب اُس شخص نے اَپنا ہاتھ بڑھا کر کُلہاڑی کو اُٹھالیا۔
9 مَرد خُدا نے شاہِ اِسرائیل کو پیغام بھیجا: ”ہوشیار رہنا، فُلاں جگہ سے مت گزرنا کیونکہ ارامی پہلے ہی وہاں پہُنچ چُکے ہیں۔“ 10 لہٰذا شاہِ اِسرائیل مَرد خُدا کی بتایٔی ہُوئی جگہ پر جانے سے باز رہتا تھا۔ اِس طرح الِیشعؔ نے بادشاہ کو کیٔی بار خبردار کیا اَور وہ اَیسی جگہوں پر جانے سے باز رہا۔
11 چنانچہ شاہِ ارام اِس واقعہ سے بہت غُصّہ سے بھر گیا۔ اُس نے اَپنے تمام افسران کو بُلایا اَور اُن سے سوال کیا، ”کیا تُم لوگ مُجھے خبر نہیں دوگے! ہم میں سے کون شاہِ اِسرائیل کی طرف ہے؟“
12 اُس کے ایک افسر نے جَواب دیا، ”میرے مالک بادشاہ! ہم میں سے تو کویٔی بھی نہیں ہے لیکن الِیشعؔ نبی جو بنی اِسرائیل میں ہے، وہ شاہِ اِسرائیل کو آپ کی اُن باتوں کی بھی خبر دیتاہے جو آپ اَپنی خواب گاہ میں فرماتے ہیں۔“
13 تَب بادشاہ نے حُکم دیا، ”جاؤ اَور مَعلُوم کرو کہ وہ نبی کہاں ہے تاکہ میں اَپنی فَوج بھیج کر اُسے گِرفتار کر سکوں۔“ لیکن خبر مِلی کہ، ”وہ دُتانؔ میں ہے۔“ 14 تَب اُس نے گھوڑوں اَور رتھوں کا ایک زبردست فَوجی دستہ وہاں روانہ کیا۔ اُنہُوں نے آکر راتوں رات شہر کا محاصرہ کر لیا۔
15 جَب اگلی صُبح مَرد خُدا کا خادِم اُٹھ کر باہر گیا تو دیکھا کہ ایک فَوج اَپنے گھوڑوں اَور رتھوں کے ساتھ شہر کا محاصرہ کیٔے ہُوئے ہے۔ تَب وہ خادِم آکر کہنے لگا، ”اَے میرے مالک، اَب ہم کیا کریں؟“
16 الِیشعؔ نے جَواب دیا، ”خوف نہ کرو کیونکہ وہ جو ہمارے ساتھ ہیں تعداد میں اُن سے زِیادہ ہیں جو اُن کے ساتھ ہیں۔“
17 تَب الِیشعؔ نے دعا کی، ”اَے یَاہوِہ! میرے خادِم کی آنکھیں کھول دیجئے تاکہ وہ دیکھ سکے۔“ تَب یَاہوِہ نے اُس نوجوان خادِم کی آنکھیں کھولیں اَور اُس نے دیکھا کہ الِیشعؔ کے اِردگرد کی پہاڑیاں آتِشی گھوڑوں اَور رتھوں سے بھری پڑی ہیں۔
18 اَور جَب ارامی فَوج الِیشعؔ کو گِرفتار کرنے آگے بڑھی، تَب الِیشعؔ نے یَاہوِہ سے دعا کی، ”اَے خُدا اِس فَوج کو اَندھا کر دیں۔“ چنانچہ یَاہوِہ نے اُنہیں اَندھا کر دیا۔
19 پھر الِیشعؔ نے اُس فَوج سے کہا، ”یہ وہ راستہ نہیں اَور نہ ہی وہ شہر ہے۔ میرے پیچھے آؤ۔ مَیں تُمہیں اُس شخص کے پاس لے جاؤں گا جِس کی تُم تلاش کر رہے ہو۔“ اَور الِیشعؔ اُنہیں سامریہؔ کو لے گیٔے۔
20 اَور جَب وہ شہر میں داخل ہُوئے تو الِیشعؔ نے دعا کی، ”اَے یَاہوِہ اِن آدمیوں کی آنکھیں کھول دیں تاکہ یہ دیکھ سکیں۔“ تَب یَاہوِہ نے اُن کی آنکھیں کھول دیں اَور اُنہُوں نے نگاہ کی تو دیکھا کہ وہ سامریہؔ شہر کے اَندر ہیں۔
21 جَب شاہِ اِسرائیل نے اُنہیں دیکھا تو اُس نے الِیشعؔ سے دریافت کیا، ”اَے میرے باپ، کیا میں اِنہیں قتل کروں، حُکم دیجئے، کیا میں اِنہیں قتل کر دُوں؟“
22 الِیشعؔ نے جَواب دیا، ”نہیں، اُنہیں قتل مت کرو۔ کیا تُم اُن جنگی قَیدیوں کو تلوار یا کمان سے قتل کروگے جنہیں کسی دُوسرے شخص نے قَید کیا ہے۔ اُن کے آگے کھانا اَور پانی رکھو، تاکہ وہ کھایٔیں پیئیں اَور پھر اَپنے آقا کے پاس واپس چلے جایٔیں۔“ 23 لہٰذا شاہِ اِسرائیل نے اُن کے لیٔے ایک بڑی ضیافت کی اَور جَب وہ کھا پی چُکے تو اُس نے اُنہیں رخصت کیا اَور وہ اَپنے آقا کے پاس لَوٹ گیٔے۔ اِس واقعہ کے بعد ارامی حملہ آوروں نے اِسرائیلی علاقہ پر اَپنے حملے بند کر دئیے۔
26 اَور جَب ایک دِن شاہِ اِسرائیل فصیل پر چہل قدمی کر رہے تھے تو ایک عورت نے اُن سے فریاد کی، ”اَے میرے مالک بادشاہ! میری مدد کیجئے!“
27 بادشاہ نے جَواب دیا، ”اگر یَاہوِہ ہی تمہاری مدد نہ کریں تو مَیں تمہاری کیا مدد کر سکتا ہُوں، میرے پاس نہ تو کھلیان سے کھانا اَور نہ ہی مے کے حوض سے انگوری شِیرہ دینے کو ہے؟“ 28 بادشاہ نے اُس عورت سے دریافت کیا، ”تُمہیں کیا تکلیف ہے؟“
30 جَب بادشاہ نے اُس عورت کی باتیں سُنیں تو اَپنے کپڑے پھاڑے اَور جَب وہ فصیل پر چہل قدمی کر رہاتھا تو لوگوں نے دیکھا کہ اُن کے جِسم پر ٹاٹ ہے جو اُنہُوں نے کپڑوں کے نیچے پہنا ہُوا تھا۔ 31 بادشاہ نے فرمایا، ”اگر آج شافاطؔ کے بیٹے الِیشعؔ کا سَر اُس کے کندھوں پر رہ جائے تو خُدا مُجھ سے اَیسا بَلکہ اِس سے بھی بدتر سلُوک کرے!“
32 اَور الِیشعؔ اَپنے گھر میں بیٹھے ہویٔے تھے اَور اُن کے ساتھ شہر کے بُزرگ بھی بیٹھے ہُوئے تھے۔ چنانچہ بادشاہ نے اُسی وقت ایک قاصِد کو الِیشعؔ کے پاس بھیجا، مگر قاصِد کے آنے سے پہلے، الِیشعؔ نے بُزرگوں سے کہا، ”دیکھو، اِس خُونی نے میرا سَر قلم کرنے کے لیٔے ایک قاصِد بھیجا ہے۔ دیکھو جَب وہ قاصِد آئے تو دروازہ اَندر سے مضبُوطی سے بند کردینا اَور اُسے ہرگز اَندر آنے نہ دینا کیونکہ قاصِد کے پیچھے پیچھے اُس کا آقا بھی دبے پاؤں چلا آ رہاہے۔“ 33 اَور ابھی الِیشعؔ اُن سے یہ باتیں کر ہی رہے تھے کہ قاصِد نے بادشاہ کے پاس آکر اُن سے کہا، ”کیونکہ یہ مُصیبت یَاہوِہ کی طرف سے بھیجی گئی ہے، تو اَب مَیں یَاہوِہ سے رِہائی کی اُمّید کیوں کروں؟“
<- 2 سلاطین 52 سلاطین 7 ->
Languages