2 تَب یہ سُن کر حِزقیاہؔ نے اَپنا مُنہ دیوار کی طرف کرکے یَاہوِہ سے یہ دعا کی، 3 ”اَے یَاہوِہ یاد فرمائیں کہ مَیں آپ کے حُضُور مُکمّل جان نثاری اَور پُوری وفاداری سے چلتا رہا ہُوں اَور مَیں نے وُہی کیا ہے جو آپ کی نظروں میں دُرست ہے۔“ اَور تَب حِزقیاہؔ زار زار رونے لگا۔
4 یَشعیاہ کے محل درمیانی صحن سے باہر نکلنے سے پیشتر ہی، یَاہوِہ کا کلام اُن پر نازل ہُوا کہ: 5 ”واپس جا کر میری قوم کے رہنما حِزقیاہؔ سے فرما، ’یَاہوِہ تمہارے آباؤاَجداد داویؔد کے خُدا یُوں فرماتے ہیں، مَیں نے تمہاری دعا سُن لی ہے اَور مَیں نے تمہارے آنسُو دیکھے ہیں۔ مَیں تُمہیں شفا بخشوں گا اَور آج سے تین دِن کے بعد تُم یَاہوِہ کے بیت المُقدّس میں جاؤگے۔ 6 اَور مَیں تمہاری عمر پندرہ بَرس اَور بڑھا دُوں گا اَور تُمہیں اَور اِس شہر کو شاہِ اشُور کے اِختیار سے آزاد کر دُوں گا۔ میں اَپنے جلال کی خاطِر اَور اَپنے خادِم داویؔد کی خاطِر اِس شہر کی حِفاظت کروں گا۔‘ “
7 تَب یَشعیاہ نے حِزقیاہؔ کے خادِموں کو حُکم دیا، ”سُوکھنے اَنجیر کی ایک ٹکیا تیّار کرکے لاؤ۔“ تَب اُنہُوں نے وَیسا ہی کیا اَور اُسے بادشاہ کے پھوڑے پر باندھ دیا۔ تَب وہ شفایاب ہو گیا۔
8 حِزقیاہؔ نے یَشعیاہ سے دریافت کیا تھا کہ، ”اِس کا کیا نِشان ہوگا کہ یَاہوِہ مُجھے شفا بخشیں گے اَور مَیں اَب سے تیسرے دِن بعد یَاہوِہ کے بیت المُقدّس میں جاؤں گا۔“
9 یَشعیاہ نے جَواب دیا، ”یَاہوِہ کے وعدہ پُورا ہونے کا یہ نِشان ہوگا، کیا سایہ یا تو دس قدم آگے بڑھ جائے گا، یا دس قدم پیچھے ہو جائے گا؟“
10 حِزقیاہؔ نے حُکم دیا، ”سایہ کا دس قدم آگے جانا تو مَعمولی سِی بات ہے۔ بہتر تو یہ ہے کہ سایہ دس قدم پیچھے ہو جائے۔“
11 تَب یَشعیاہ نبی نے یَاہوِہ سے دعا کی اَور یَاہوِہ نے اُس سایہ کو جو آحازؔ کی دھوپ گھڑی میں دس قدم ڈھل چُکاتھا، وہ دس قدم پیچھے چلا گیا۔
14 تَب یَشعیاہ نبی نے حِزقیاہؔ بادشاہ کے پاس جا کر پُوچھا، ”اُن لوگوں نے کیا کہا اَور وہ کہاں سے آئےتھے؟“
15 تَب نبی نے پُوچھا، ”اُنہُوں نے آپ کے محل میں کیا کیا دیکھا؟“
16 تَب یہ سُن کر یَشعیاہ نے حِزقیاہؔ سے فرمایا، ”یَاہوِہ کا کلام سُنو، 17 یَاہوِہ فرماتے ہیں کہ وہ دِن یقیناً آنے والے ہیں، جَب تمہارے محل کی ہر ایک چیز اَور سَب کچھ جو تمہارے آباؤاَجداد نے آج تک جمع کیا ہے، بابیل کو لے جایا جائے گا اَور یہاں کچھ بھی باقی نہ رہ جائے گا۔ 18 اَور تمہارے بیٹوں میں سے بعض کو جو تمہارے اَپنے گوشت اَور خُون ہیں اُنہیں اسیری میں لے جایا جائے گا اَور اُنہیں شاہِ بابیل کے محل کے خواجہ سرا بنا دیا جائے گا۔“
19 تَب حِزقیاہؔ نے یَشعیاہ کو جَواب دیا، ”یَاہوِہ کا کلام جو آپ نے سُنایا بھلا ہی ہے،“ کیونکہ اُس نے سوچا، ”جَب تک میں زندہ ہُوں تَب تک اَمن و سلامتی قائِم رہے گی۔“
20 اَور حِزقیاہؔ کے دَورِ حُکومت کے دیگر واقعات اَور اُس کے کارنامے اَور یہ کہ اُس نے کس طرح تالاب اَور سُرنگ کی تعمیر کرائی، جِس کے ذریعہ شہر کے اَندر پانی لایا گیا، کیا وہ یہُوداہؔ کے بادشاہوں کی کِتاب میں درج نہیں ہے؟ 21 حِزقیاہؔ اَپنے آباؤاَجداد کے ساتھ سو گیا اَور اُس کی جگہ پر اُس کا بیٹا منشّہ بادشاہ بنا۔
<- 2 سلاطین 192 سلاطین 21 ->
Languages