5 حِزقیاہؔ بنی اِسرائیل کے خُدا یَاہوِہ پر توکّل کرتا تھا، اَور یہُوداہؔ کے تمام بادشاہوں میں جو اُس سے پہلے یا اُس کے بعد ہُوئے تھے اُس کی مانند کویٔی بھی نہ تھا۔ 6 کیونکہ یَاہوِہ پر اُس کا ایمان بڑا پُختہ تھا۔ وہ ہمیشہ یَاہوِہ کی پیروی کرتا رہا اَور اُن اَحکام پر عَمل کرتا رہا جنہیں یَاہوِہ نے مَوشہ کو عطا فرمایا تھا۔ 7 اِس لئے یَاہوِہ اُس کے ساتھ تھے اَور جہاں بھی وہ گیا وہاں اُسے اُس کے کام میں اِقبالمندی حاصل ہوئی۔ اُس نے شاہِ اشُور کے خِلاف بغاوت کر دی اَور اُسے خراج دینے سے منع کر دیا۔ 8 اُس نے فلسطینیوں کو غزّہؔ اَور اُس کی سرحدوں تک یعنی نگہبانوں کے بُرج سے لے کر فصیلدار شہر تک شِکست دی۔
9 حِزقیاہؔ کے دَورِ حُکومت کے چوتھے سال میں جو شاہِ اِسرائیل ہوشِیعؔ بِن اَیلہ کے دَورِ حُکومت کا ساتواں سال تھا، شاہِ اشُور شلمنسرؔ نے سامریہؔ پر حملہ کیا اَور اُس کو گھیرلیا۔ 10 اَور تین سال کے آخِر میں اشُوریوں نے اُس پر قبضہ کر لیا۔ لہٰذا سامریہؔ پر حِزقیاہؔ کے دَورِ حُکومت کے چھٹے سال میں اَور شاہِ اِسرائیل ہوشِیعؔ کے دَورِ حُکومت کے نَوویں سال میں قبضہ کر لیا۔ 11 اَور شاہِ اشُور بنی اِسرائیل کو اسیر کرکے مُلکِ اشُور میں لے گیا اَور اُنہیں دریائے گُوزانؔ کے کنارے پر حالاحؔ اَور حابُورؔ نامی مقاموں میں اَور مادیوں کے شہروں میں آباد کر دیا۔ 12 اَیسا اِس لیٔے ہُوا کیونکہ اُنہُوں نے یَاہوِہ اَپنے خُدا کا حُکم نہ مانا بَلکہ اُنہُوں نے یَاہوِہ کے عہد کو توڑ دیا یعنی اُن تمام باتوں کی خِلاف ورزی کی جِن پر عَمل کرنے کا حُکم یَاہوِہ کے خادِم مَوشہ نے دیا تھا۔ نہ تو اُنہُوں نے اُن حُکموں کو سُنا اَور نہ ہی اُن پر عَمل کیا۔
13 شاہِ حِزقیاہؔ کے دَورِ حُکومت کے چودھویں سال میں شاہِ اشُور صینخربؔ نے یہُوداہؔ پر حملہ کرکے اُس کے تمام فصیلدار شہروں پر قبضہ کر لیا۔ 14 لہٰذا شاہِ یہُودیؔہ حِزقیاہؔ نے شاہِ اشُور کو لاکیشؔ شہر میں یہ پیغام بھیجا: ”مُجھ سے خطا ہُوئی ہے۔ یہاں سے اَپنی فَوجوں کو ہٹا لیجئے اَور آپ جِتنا خراج مطالبہ کریں گے میں اُسے اَدا کروں گا۔“ چنانچہ شاہِ اشُور نے شاہِ یہُودیؔہ حِزقیاہؔ سے دس میٹرک ٹن چاندی اَور ایک ٹن سونا[b] بطور خراج مُقرّر کر دیا۔ 15 تَب شاہِ حِزقیاہؔ نے ساری چاندی جو یَاہوِہ کے بیت المُقدّس اَور شاہی محل کے خزانوں میں مِلی اُسے شاہِ اشُور کو نذرانہ میں پیش کر دیا۔
16 ساتھ ہی شاہِ یہُودیؔہ حِزقیاہؔ نے یَاہوِہ کی بیت المُقدّس کے دروازوں اَور دروازوں کے سُتونوں کا وہ سونا جو خُود اُس نے اُن پر منڈھوایا تھا اُترواکر شاہِ اشُور کو دے دیا۔
19 فَوج کے سپہ سالار نے اُنہیں حُکم دیا، ”حِزقیاہؔ سے کہو:
26 تَب اِلیاقیؔم بِن خِلقیاہؔ اَور شبناہؔ اَور یُوآخؔ نے فَوج کے سپہ سالار سے اِلتجا کی، ”مہربانی سے اَپنے خادِموں سے ارامی زبان میں بات کیجئے کیونکہ ہم اُسے سمجھتے ہیں اَور ہم سے یہُودیؔہ کی عِبرانی زبان میں بات نہ کریں کیونکہ فصیل پرجو لوگ بیٹھے ہیں وہ ہماری گُفتگو سُن رہے ہیں۔“
27 لیکن فَوج کے سپہ سالار نے جَواب دیا، ”کیا میرے آقا نے یہ باتیں صرف تُم سے اَور تمہارے آقا سے کہنے کے لیٔے بھیجا ہے، کیا اِن فصیل پر بیٹھنے والوں کے پاس نہیں بھیجا جِن کی یہی سزا مُقرّر ہے کہ وہ تمہارے ساتھ خُود اَپنا فُضلہ کھائیں اَور اَپنا پیشاب پیئیں؟“
28 پھر فَوج کے سپہ سالار نے کھڑے ہوکر یہُودیؔہ کی عِبرانی زبان میں بُلند آواز سے کہا، ”مُلکِ مُعظّم شاہِ اشُور کا پیغام سُنو! 29 بادشاہ یُوں فرماتے ہیں، حِزقیاہؔ کے فریب میں مت آؤ کیونکہ وہ تُمہیں بچا نہ سکےگا۔ 30 اَور حِزقیاہؔ تُمہیں یہ کہہ کر یَاہوِہ پر توکّل رکھنے کی ترغِیب دینے نہ پایٔے، ’یَاہوِہ ہمیں ضروُر چھُڑائیں گے اَور یہ شہر شاہِ اشُور کے قبضہ میں ہرگز نہ ہوگا۔‘
31 ”حِزقیاہؔ کی نہ سُنو کیونکہ شاہِ اشُور یُوں فرماتے ہیں: میرے ساتھ صُلح کرو اَور نکل کر میرے پاس آؤ۔ تَب تُم میں سے ہر ایک اَپنے ہی تاکستان اَور اَنجیر کے درخت کا پھل کھا پایٔےگا اَور اَپنے ہی حوض کا پانی پیا کرےگا۔ 32 جَب تک میں آکر تُمہیں ایک اَیسے مُلک میں نہ لے جاؤں جو تمہارے ہی مُلک کی مانند اناج اَور تازہ مَے کا مُلک، روٹی اَور تاکستانوں کا مُلک، زَیتُون کے درختوں اَور شہد کا مُلک ہے؛ تاکہ تُم زندگی اَور موت دونوں میں سے زندگی کو مُنتخب کر لو!
36 لیکن سَب لوگ خاموش رہے اَور جَواب میں کچھ نہ کہا کیونکہ حِزقیاہؔ بادشاہ نے اُنہیں حُکم دے رکھا تھا، ”اُنہیں جَواب نہ دینا۔“
37 تَب شاہی محل کے دیوان اِلیاقیؔم بِن خِلقیاہؔ اَور شبناہؔ راوی اَور محرِّر یُوآخؔ بِن آسفؔ نے اَپنے کپڑے چاک کئے ہُوئے حِزقیاہؔ کے پاس گیٔے اَورجو کچھ فَوج کے سپہ سالار نے کہاتھا اُسے بَیان کیا۔
<- 2 سلاطین 172 سلاطین 19 ->
Languages