4 اَور پھر یہُوآحازؔ نے یَاہوِہ سے فریاد کی اَور یَاہوِہ نے اُس کی فریاد سُنی کیونکہ اُنہُوں نے اِسرائیل قوم پر ہو رہے ظُلم و سِتم کو دیکھا کہ کس قدر شاہِ ارام اُنہیں اَذیّت دے رہاتھا۔ 5 اَور یَاہوِہ نے بنی اِسرائیل کو ایک نَجات دینے والا عنایت فرمایا چنانچہ وہ ارام کے اِختیار سے آزاد ہو گئے اَور پہلے کی طرح بنی اِسرائیل اَپنے گھروں میں بحِفاظت سے رہنے لگے۔ 6 اِتنا سَب ہونے کے باوُجُود بھی وہ یرُبعامؔ کے گھرانے کے اُن گُناہوں سے کنارہ نہیں کیٔے؛ جِن میں اُس نے بنی اِسرائیل کو بھی ملوث کر رکھا تھا بَلکہ وہ اُنہیں گُناہوں میں ڈُوبے رہے یہاں تک کہ اشیراہؔ بُت کا سُتون بھی سامریہؔ میں وُہی رہا۔
7 اَب یہُوآحازؔ کی فَوج میں صرف پچاس گُھڑسوار، دس رتھ اَور دس ہزار پیادوں کے سِوا اَور کچھ باقی نہیں بچا تھا کیونکہ باقیوں کو شاہِ ارام نے اُنہیں تباہ کر دیا اَور خاک کی مانند پیس ڈالا تھا۔
8 کیا یہُوآحازؔ کے دَورِ حُکومت کے دیگر واقعات اَور فتوحات سَب کچھ جو اُس نے کیا اُس کا ذِکر بنی اِسرائیل کے بادشاہوں کی تواریخ کی کِتاب میں درج نہیں ہے؟ 9 اَور یہُوآحازؔ اَپنے آباؤاَجداد کے ساتھ سو گیا اَور سامریہؔ میں دفن کیا گیا اَور اُس کا بیٹا یہُوآشؔ اُس کی جگہ پر بادشاہ مُقرّر ہُوا۔
12 کیا یہُوآشؔ کے دَورِ حُکومت کے دیگر واقعات اَور وہ سَب جو اُس نے کیا اَور اُس کی قُوّت اَور اماضیاہؔ شاہِ یہُودیؔہ کے ساتھ اُس کا جنگ کرنا اُس کا ذِکر بنی اِسرائیل کے بادشاہوں کی تواریخ کی کِتاب میں درج نہیں ہے؟ 13 اَور یہُوآشؔ اَپنے آباؤاَجداد کے ساتھ سو گیا اَور یرُبعامؔ اُس کی جگہ تخت نشین ہُوا۔ اَور یہُوآشؔ سامریہؔ میں شاہانِ بنی اِسرائیل کے ساتھ دفن کیا گیا۔
14 اِس وقت الِیشعؔ ایک جان لیوا مرض میں اِس قدر مُبتلا ہو گیٔے تھے کہ وہ مرنے والے تھے۔ شاہِ اِسرائیل یہُوآشؔ اُن سے مُلاقات کرنے گیا اَور الِیشعؔ کے سامنے جا کر روتے ہُوئے کہنے لگا، اَے میرے باپ، اَے میرے باپ، بنی اِسرائیل کے رتھ اَور اُس کے گُھڑسوار!
15 الِیشعؔ نے فرمایا، ”اَپنا کمان اَور کچھ تیر لو،“ چنانچہ بادشاہ نے وَیسا ہی کیا۔ 16 تَب الِیشعؔ نے بنی اِسرائیل کے بادشاہ کو حُکم دیا، کمان کھینچ اَور جَب اُس نے اُسے کھینچا تو الِیشعؔ نے اَپنے ہاتھ بادشاہ کے ہاتھوں پر رکھ دیا۔
17 تَب الِیشعؔ نے حُکم دیا، ”مشرق کی طرف کی کھڑکی کھول دو۔ اَور بادشاہ نے اُسے کھول دیا۔“ الِیشعؔ نے فرمایا، ”تیر چلاؤ اَور اُس نے تیر چلایا۔ تَب الِیشعؔ نے اعلان کیا، یہ یَاہوِہ کے فتح کا تیر ہے یعنی مُلک ارام پر فتح پانے کا تیر۔ تُم افیقؔ میں ارامیوں سے تَب تک جنگ کرنا جَب تک اُنہیں پُوری طرح سے نِیست و نابود نہ کر دو۔“
18 پھر الِیشعؔ نے دوبارہ فرمایا، تیروں کو لے لو اَور بادشاہ نے اُنہیں لے لیا۔ تَب الِیشعؔ نے اِسرائیل کے بادشاہ کو حُکم دیا، ”زمین پر تیر چلاؤ۔“ اَور بادشاہ نے زمین پر تین بار تیر چلایا اَور پھر رُک گیا۔ 19 تَب مَرد خُدا اُس پر غُصّہ کرتے ہُوئے فرمایا، ”تُمہیں کم سے کم پانچ یا چھ بار زمین پر تیر چلانا تھا۔ تبھی تُم ارام کو اَیسی شِکست دیتے کہ وہ پُوری طرح سے نِیست و نابود ہو جاتا۔ مگر اَب تُم اُسے صِرف تین بار ہی شِکست دے سکوگے۔“
20 تَب الِیشعؔ کی وفات ہو گئی اَور اُنہُوں نے الِیشعؔ کو سُپرد خاک کر دیا۔
22 اَور یہُوآحازؔ کے پُورے دَورِ حُکومت میں شاہِ ارام حزائیلؔ بنی اِسرائیل کو مسلسل اَذیّت ہی دیتا رہا۔ 23 مگر یَاہوِہ اَبراہامؔ، اِصحاقؔ اَور یعقوب کے ساتھ اَپنے عہد کی وجہ سے اُن پر مہربان تھے اَور اُنہُوں نے اُن پر رحم کیا اَور اُن کی خبرگیری کی اَور آج تک اُنہیں ہلاک نہیں ہونے دیا اَور نہ ہی اُنہیں اَپنی حُضُوری سے دُور کیا۔
24 جَب حزائیلؔ شاہِ ارام نے وفات پائی تو اُس کا بیٹا بِن ہددؔ اُس کی جگہ بادشاہ مُقرّر ہُوا۔ 25 اِس وقت یہُوآشؔ بِن یہُوآحازؔ نے حزائیلؔ کے بیٹے بِن ہددؔ سے وہ سَب شہر چھین لیٔے جو اُس کے باپ یہُوآحازؔ سے جنگ میں چھین لیٔے گیٔے تھے۔ یہُوآشؔ نے تین بار بِن ہددؔ کو شِکست دی تھی اَور اِس طرح اُس نے بنی اِسرائیل کے شہر واپس لے لئے۔
<- 2 سلاطین 122 سلاطین 14 ->
Languages