1 عزیزو! جَب کہ ہم سے اَیسے وعدے کیٔے گیٔے ہیں، تو آؤ ہم اَپنے آپ کو ساری جِسمانی اَور رُوحانی آلُودگی سے پاک کریں، اَور خُدا کے خوف کے ساتھ پاکیزگی کو کمال تک پہُنچائیں۔
5 صُوبہ مَکِدُنیہؔ میں آنے کے بعد بھی، ہمارے جِسم کو چَین نہ مِلا، ہم پر ہر طرف سے مُصیبتیں آتی تھیں۔ باہر لڑائیاں تھیں، اَور اَندر دہشتیں۔ 6 لیکن پست حالوں کو حوصلہ دینے والے خُدا نے طِطُسؔ کو وہاں بھیج کر، ہمیں تسلّی بخشی، 7 نہ صِرف اُس کی آمد سے بَلکہ اُس تسلّی سے بھی جو اُس کو تُم سے حاصل ہُوئی۔ اَور طِطُسؔ نے ہمیں تمہارا غم، تمہارا اشتیاق، اَور میرے بارے میں بڑا جوش رکھتے ہو، اُس کا بَیان کیا تو مُجھے اَور بھی خُوشی ہُوئی۔
8 اگرچہ مَیں نے اَپنے پہلے خط سے تمہارا دِل دِکھایا، پھر بھی میں اُس کے لکھنے پر پشیمان نہیں ہُوں۔ ہاں، پہلے پشیمان تھا کہ مَیں نے تُمہیں اَیسا خط کیوں لِکھّا جِس نے تُمہیں رنجیدہ کیا، خواہ تھوڑی دیر کے لیٔے ہی سہی۔ 9 اَب مَیں خُوش ہُوں، اِس لیٔے نہیں کہ تُمہیں رنج پہُنچا، بَلکہ اِس لیٔے کہ تمہارے رنج نے تُمہیں تَوبہ کرنے پر مجبُور کیا۔ اَور خُدا نے اُس رنج کے ذریعہ اَپنی مرضی پُوری کی اَور یُوں تُمہیں ہماری وجہ سے کویٔی نُقصان نہیں ہُوا۔ 10 کیونکہ وہ رنج جو خُدا کی مرضی کو پُورا کرتا ہے، اِنسان کو تَوبہ کرنے پر اُبھارتا ہے جِس کا نتیجہ نَجات ہے۔ اَور اِس پر کسی کو پچھتانے کی ضروُرت نہیں، لیکن دُنیا کا رنج موت پیدا کرتا ہے۔ 11 پس دیکھو اُس رنج نے جو خُدا کی مرضی کے مُطابق تھا: تُم میں کِس قدر سرگرمی، معذرت خواہی، ناراضگی، خوفِ خُدا، اشتیاق، غیرت اَور اِنتقام پیدا کر دیا۔ تُم نے ہر طرح سے ثابت کر دیا کہ تُم اِس مُعاملہ میں بے قُصُور ہو۔ 12 مَیں نے وہ خط لِکھّا تو ضروُر تھا، لیکن نہ تو اُس ظالِم کے باعث لِکھّا اَور نہ اُس کے باعث جِس پر ظُلم ہُوا، بَلکہ میں چاہتا تھا کہ ہمارے واسطے جو تمہاری سرگرمی ہے وہ خُدا کی حُضُوری میں تُم پر ظاہر ہو جائے کہ تُم ہمیں کتنی اہمیّت دیتے ہو۔ 13 اِس لیٔے ہمیں تسلّی ہُوئی۔
Languages