1 کیا ہم اَپنی نیک نامی کا ڈھنڈورا پیٹنے لگیں؟ کیا ہمیں ضروُرت ہے کہ بعض لوگوں کی طرح سفارشی خُطوط لے کر تمہارے پاس آئیں یا تُم سے سفارشی خُطوط لے کر دُوسروں کے پاس جایٔیں؟ 2 ہمارا خط تو ہمارے دِلوں پر لِکھّا ہُواہے، اَور وہ خط تُم ہو، اُس خط کو سَب لوگ جانتے ہیں اَور پڑھ بھی سکتے ہیں۔ 3 ظاہر ہے کہ تُم وہ خط ہو جسے ہم نے المسیح کے خادِموں کی حیثیت سے تحریر کیا ہے، یہ خط روشنائی سے نہیں، بَلکہ زندہ خُدا کے پاک رُوح کے ذریعہ پتّھر کی تختیوں پر نہیں بَلکہ اِنسانی جِسم کے دِلوں کی تختیوں پر لِکھّا گیا ہے۔
4 المسیح کی مَعرفت خُدا پر ہمارا اَیسا ہی بھروسا ہے۔ 5 یہ بات نہیں کہ خُود ہم میں کویٔی لیاقت ہے کہ ہم اَیسا خیال کریں بَلکہ ہماری لیاقت خُدا کی عطا کَردہ ہے۔ 6 جِس نے ہمیں نئے عہد کے خادِم ہونے کے لائق بھی کیا۔ تحریری نظام کے نہیں بَلکہ رُوح کے خادِم ہیں؛ کیونکہ تحریری نظام مار ڈالتا ہے، مگر پاک رُوح زندگی عطا کرتی ہے۔
12 لہٰذا اِس اُمّید کی وجہ سے ہم بڑے بے خوف ہوکر بولتے ہیں۔ 13 ہم مَوشہ کی مانند نہیں، جنہوں نے اَپنے چہرہ پر نقاب ڈال لی تھی تاکہ بنی اِسرائیلؔ اُس جلال کو جو مِٹتا جا رہاتھا نہ دیکھ سکیں۔ 14 اُن کی عقل پر پردہ پڑ گیا تھا، اَور آج بھی پُرانے عہدنامہ کی کِتابیں پڑھتے وقت اُن کے دِلوں پر پردہ پڑا رہتاہے۔ یہ پردہ اُسی وقت اُٹھتا ہے جَب کویٔی المسیح پر ایمان لے آتا ہے۔ 15 آج تک جَب کبھی شَریعتِ مُوسوی پڑھی جاتی ہے، اُن کے دِلوں پر وُہی پردہ پڑا رہتاہے۔ 16 لیکن جَب کبھی کسی کا دِل خُداوؔند کی طرف رُجُوع ہوتاہے، تو وہ پردہ ہٹا دیا جاتا ہے۔ 17 یہاں خُداوؔند سے مُراد پاک رُوح ہے، اَور جہاں خُداوؔند کا پاک رُوح مَوجُود ہے، وہاں آزادی ہے۔ 18 لیکن ہم سَب، جِن کے بے نقاب چہروں سے خُداوؔند کا جلال اِس طرح ظاہر ہوتاہے، جِس طرح آئینہ میں، تو ہم خُداوؔند کے پاک رُوح کے وسیلہ سے اُس کی جلالی صورت میں درجہ بدرجہ بدلتے جاتے ہیں۔
<- 2 کُرِنتھِیوں 22 کُرِنتھِیوں 4 ->
Languages