1 جتنے غُلام ابھی تک غُلامی کے جُوئے میں ہیں وہ اَپنے مالکوں کو بڑی عزّت کے لائق سمجھیں تاکہ کویٔی خُدا کے نام کی اَور ہماری تعلیم کی توہین نہ کرے۔ 2 لیکن جِن غُلاموں کے مالک مُومِن ہیں وہ اِس خیال سے کہ اَب وہ اُن کے مُومِنین بھایٔی ہیں، اُنہیں حقیر نہ جانیں بَلکہ اُن کی اَور زِیادہ خدمت کریں کیونکہ اَب اُن کی خدمت سے اُن کے عزیز مُومِنین بھائیوں کو ہی فائدہ پہُنچے گا۔
6 ہاں اگر خُدا پرستی قناعت کے ساتھ ہو، تو بڑے نفع کا ذریعہ ہے۔ 7 کیونکہ ہم دُنیا میں نہ تو کچھ لے کر آئے ہیں اَور نہ کچھ اُس میں سے لے جا سکتے ہیں۔ 8 چنانچہ اگر ہمارے پاس کھانے کو کھانا اَور پہننے کو لباس ہے، تو اُسی پر صبر کریں۔ 9 جو لوگ دولتمند ہونا چاہتے ہیں وہ کیٔی طرح کی آزمائشوں پھندوں اَور بےہوُدہ اَور مُضِر خواہشوں میں پھنس جاتے ہیں جو لوگوں کو تباہی اَور ہلاکت میں غرق کردیتی ہیں۔ 10 کیونکہ زَر دوستی ہر قِسم کی بُرائی کی جڑ ہے اَور بعض لوگوں نے دولت کے لالچ میں آکر اَپنا ایمان کھو دیا اَور خُود کو کافی اَذیّت پہُنچائی ہے۔
17 اِس مَوجُودہ جہان کے دولتمندوں کو حُکم دے کہ وہ مغروُر نہ ہوں، اَور ناپائیدار دولت پر نہیں بَلکہ خُدا پر اُمّید رکھیں، جو ہمیں سَب چیزیں فیّاضی سے مُہیّا کرتا ہے تاکہ ہم مزہ سے زندگی گُزاریں۔ 18 اُنہیں حُکم دے کہ وہ نیکی کریں اَور نیک کاموں کے لِحاظ سے دولتمند بنیں، اَور سخاوت پر تیّار اَور دُوسروں کی مدد کرنے پر آمادہ رہیں۔ 19 اِس طرح وہ اَپنے لیٔے اَیسا خزانہ جمع کریں گے جو آنے والے جہان کے لیٔے ایک مضبُوط بُنیاد قائِم کرےگی، تاکہ وہ اُس زندگی کو جو اصل میں حقیقی زندگی ہے تھامے رہ سکیں۔
20 اَے تِیمُتھِیُس، اِس اَمانت کو جو تیرے سُپرد کی گئی ہے حِفاظت سے رکھ۔ اَور جِس چیز کو علم کہنا ہی غلط ہے اُس پر توجّہ نہ کر کیونکہ اُس میں بےہوُدہ باتیں اَور اِختلافات پایٔے جاتے ہیں، 21 بعض لوگ اَیسے علم کا اقرار کرکے اَپنے ایمان سے برگشتہ ہو گیٔے ہیں۔
Languages