1 اُن ہی دِنوں میں اَیسا ہُوا کہ فلسطینیوں نے اِسرائیلیوں سے جنگ کے لیٔے اَپنی فَوجیں جمع کیں اَور اکِیشؔ نے داویؔد سے کہا، ”تُمہیں خُوب سمجھ لینا چاہئے کہ تُمہیں اَور تمہارے آدمیوں کو میرے لشکر کے ساتھ چلنا ہوگا۔“
2 داویؔد نے کہا، ”تَب تو تُم خُود ہی دیکھ لوگے کہ تمہارا خادِم کیا کر سَکتا ہے۔“
4 اَور فلسطینی جمع ہوکر نکلے اَور اُنہُوں نے شُونیمؔ میں ڈالی۔ اُدھر شاؤل نے بھی تمام اِسرائیلیوں کو جمع کرکے گِلبوعہؔ میں ڈالی۔ 5 اَور جَب شاؤل نے فلسطینیوں کی فَوج دیکھی تو وہ ڈر گیا اَور اُس کا دِل کانپنے لگا۔ 6 شاؤل نے یَاہوِہ سے دریافت کیا مگر یَاہوِہ نے اُسے نہ تو خوابوں، نہ اُوریمؔ اَور نہ نبیوں کے وسیلہ سے کویٔی جَواب دیا۔ 7 تَب شاؤل نے اَپنے خادِموں سے کہا، ”میرے لیٔے کویٔی اَیسی عورت تلاش کرو جِس کا آشنا کویٔی جنّ ہو تاکہ میں جا کر اُس سے پُوچھوں۔“
8 لہٰذا شاؤل نے دُوسرے کپڑے پہن کر اَپنا بھیس بدل لیا اَور رات کو وہ اَور دو آدمی اُس عورت کے پاس گیٔے اَور کہا، ”میری خاطِر کسی جنّ کے ساتھ رابطہ قائِم کر،“ شاؤل نے اُس عورت سے کہا، ”اَور جِس کا میں نام لُوں اُسے میری خاطِر اُوپر لے آ۔“
9 لیکن اُس عورت نے اُس سے کہا، ”تُم اَچھّی طرح جانتے ہو کہ شاؤل نے کیا کیا ہے۔ اُس نے اَرواح پرستوں کے آشناؤں اَور جادُوگروں کو مُلک میں ختم کر دیا ہے۔ تُم کیوں میری جان کے لیٔے پھندا لگا کر مُجھے مروانا چاہتے ہو؟“
10 شاؤل نے اُس سے یَاہوِہ کی قَسم کھائی، ”یَاہوِہ کی حیات کی قَسم، اِس کے لیٔے تُمہیں کویٔی سزا نہ دی جائے گی۔“
11 اُس عورت نے پُوچھا، ”مَیں تمہاری خاطِر کسے اُوپر لاؤں؟“
12 جَب اُس عورت نے شموایلؔ کو دیکھا تو زور سے چِلّائی اَور شاؤل سے کہا، ”تُم نے مُجھے دھوکا کیوں دیا ہے؟ تُم شاؤل ہو نا؟“
13 بادشاہ نے شاؤل سے کہا، ”تُم ڈرو مت۔ تُم کیا دیکھتی ہو؟“
14 اُس نے پُوچھا، ”وہ کیسا دِکھائی دیتاہے؟“
15 شموایلؔ نے شاؤل سے کہا، ”تُم نے مُجھے اُوپر لاکر پریشان کیوں کیا ہے؟“
16 شموایلؔ نے کہا، ”اَب جَب کہ یَاہوِہ تُجھ سے الگ ہو گیا ہے اَور تیرا دُشمن بَن گیا ہے تو مُجھ سے کیوں پُوچھتا ہے؟ 17 یَاہوِہ نے وُہی کیا ہے جِس کی اُنہُوں نے میری مَعرفت پیشین گوئی کی تھی۔ یَاہوِہ نے بادشاہی تیرے ہاتھوں سے چھین لی ہے اَور تیرے پڑوسی داویؔد کو دے دی ہے۔ 18 کیونکہ تُم نے یَاہوِہ کی بات نہ مانی اَور عمالیقیوں سے اُن کے قہر شدید کے مُوافق پیش نہیں آیا۔ اِسی سبب سے یَاہوِہ نے آج کے دِن تُجھ سے یہ برتاؤ کیا۔ 19 اَور یَاہوِہ تُجھے اَور اِسرائیل دونوں کو فلسطینیوں کے حوالہ کر دے گا اَور کل تُو اَور تیرے بیٹے میرے ساتھ ہوں گے۔ یَاہوِہ اِسرائیل کے لشکر کو بھی فلسطینیوں کے حوالہ کر دیں گے۔“
20 تَب شاؤل شموایلؔ کی باتوں کے باعث خوفزدہ ہوکر فوراً زمین پر لمبا ہوکر گرا اَور اُس کی قُوّت جاتی رہی کیونکہ اُس نے اُس سارے دِن اَور ساری رات کچھ نہیں کھایا تھا۔
21 وہ عورت شاؤل کے پاس آئی اَور اُس نے دیکھا کہ وہ بڑا پریشان ہے تو اُس نے کہا، ”دیکھیں، آپ کی لونڈی نے آپ کا حُکم مانا اَور اَپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر وُہی کیا جو آپ نے مجھ سے کرنے کے لیٔے کہا۔ 22 اَب براہِ مہربانی اَپنی لونڈی کی بات سُنیں اَور اِجازت فرمائیں کہ مَیں آپ کے لیٔے کچھ کھانا لاؤں تاکہ آپ کھائیں اَور اَپنی راہ جانے کے لیٔے طاقت پائیں۔“
23 اُس نے اِنکار کیا اَور کہا، ”میں نہیں کھاؤں گا۔“
24 اُس عورت کے پاس گھر میں ایک فربہ بچھڑا تھا جسے اُس نے فوراً ذبح کیا اَور پھر کچھ آٹا لے کر اُسے گوندھا اَور بے خمیری روٹیاں پکائیں 25 اَور اُنہیں شاؤل اَور اُس کے آدمیوں کے آگے رکھا اَور اُنہُوں نے کھایا اَور اُسی رات اُٹھ کر چلے گیٔے۔
<- 1 شموایلؔ 271 شموایلؔ 29 ->
Languages