4 اَور بادشاہ قُربانیاں چڑھانے کے لیٔے گِبعونؔ کو گیا کیونکہ وہ نہایت ہی اہم بُلند مقام تھا اَور شُلومونؔ نے مذبح پر ایک ہزار سوختنی نذریں پیش کیں۔ 5 اَور گِبعونؔ میں یَاہوِہ رات کے وقت خواب میں شُلومونؔ کو دِکھائی دیئے اَور خُدا نے فرمایا، ”کہ جو کچھ بھی تُم چاہتے ہو مانگ لو مَیں تُمہیں دُوں گا۔“
6 شُلومونؔ نے جَواب دیا، ”کہ آپ نے اَپنے خادِم میرے باپ داویؔد پر بڑی مہربانی کی ہے کیونکہ وہ آپ کے حُضُور میں ایماندار، نیک دِل اَور راستباز تھے اَور آپ نے داویؔد کے ساتھ اِس بڑی مہربانی کو جاری رکھّا ہے اَور آج آپ نے میرے باپ کو اُن کے تخت پر بیٹھنے کے لیٔے ایک بیٹا بھی بخشا ہے۔
7 ”اَب، اَے یَاہوِہ میرے خُدا! آپ نے میرے باپ داویؔد کی جگہ اَپنے خادِم کو بادشاہ بنایا ہے۔ لیکن مَیں تو ابھی کمسِن لڑکا ہُوں۔ میں نہیں جانتا کہ اَپنے فرائض کو کس طرح اَنجام دُوں۔ 8 آپ کا خادِم آپ کے مُنتخب لوگوں کے درمیان ہے جو ایک اَیسی عظیم قوم ہے کہ اُن کا شُمار نہیں کیا جا سکتا۔ 9 لہٰذا اِس قوم پر حُکمرانی کرنے کے لیٔے اَور نیک و بد میں اِمتیاز کرنے کے لیٔے اَپنے خادِم کو فہم و بصیرت والا دِل عطا کریں کیونکہ آپ کی اِس عظیم قوم پر حُکمرانی کرنے کے لائق کون ہے؟“
10 یہ بات یَاہوِہ کو پسند آئی کہ شُلومونؔ نے یہ چیز مانگی۔ 11 اِس لیٔے خُدا نے اُس سے فرمایا، ”چونکہ تُم نے نہ تو اَپنی عمر درازی، نہ اَپنے واسطے دولت اَور نہ ہی اَپنے دُشمنوں کی موت مانگی ہے، بَلکہ فہم و بصیرت کی درخواست کی تاکہ تُم اِنصاف سے کام لے سکو۔ 12 لہٰذا میں وُہی کروں گا جِس کی تُم نے درخواست کی ہے۔ مَیں تُمہیں ایک اَیسا عقلمند اَور سمجھنے والا دِل عطا کروں گا کہ تمہاری مانند نہ تو کویٔی تُم سے پہلے ہُوا اَور نہ کویٔی تمہارے بعد ہوگا۔ 13 اِس کے علاوہ مَیں تُمہیں وہ بھی عطا کروں گا جو تُم نے نہیں مانگا یعنی دولت اَور عزّت، اَیسا کہ تمہارے ہم عصر بادشاہوں میں سے زندگی بھر کویٔی بھی تمہارے برابر نہ ہوگا۔ 14 اَور اگر تُم میری راہوں پر چلو اَور میرے قوانین اَور اَحکام پر عَمل کرو جَیسے تمہارے باپ داویؔد نے کیا تھا، تو مَیں تُمہیں لمبی عمر عطا کروں گا۔“ 15 تَب شُلومونؔ جاگ اُٹھا اَور سمجھ گیا کہ یہ ایک خواب تھا۔
19 ”رات کے وقت اِس عورت کا بچّہ مَر گیا کیونکہ یہ اُس کے اُوپر لیٹ گئی تھی۔ 20 چنانچہ وہ آدھی رات کو اُٹھی اَور جِس وقت آپ کی لونڈی سوئی ہُوئی تھی، اُس نے میرے بیٹے کو میرے بغل سے لے کر اَپنی گود میں لیٹا لیا اَور اَپنے مُردہ بچّے کو اُٹھاکر میری گود میں رکھ دیا۔ 21 اگلی صُبح جَب مَیں اَپنے بچّے کو دُودھ پِلانے کے لیٔے اُٹھی تو دیکھا کہ بچّہ مَرا ہُواہے۔ لیکن جَب مَیں نے صُبح کی رَوشنی میں اُس پر غور سے نگاہ کی تو دیکھا کہ یہ وہ بچّہ نہیں ہے جسے مَیں نے پیدا کیا تھا۔“
22 تَب یہ عورت کہنے لگی، ”نہیں! زندہ بچّہ میرا ہے اَور مَرا ہُوا بچّہ تمہارا ہے۔“
23 بادشاہ نے فرمایا، ”ایک عورت کہتی ہے، ’میرا بیٹا زندہ ہے اَور تمہارا بیٹا مُردہ ہے،‘ جَب کہ دُوسری کہتی ہے، ’نہیں! تمہارا بیٹا مُردہ ہے اَور میرا زندہ ہے۔‘ “
24 پھر بادشاہ نے فرمایا، ”میرے پاس ایک تلوار لاؤ۔“ چنانچہ بادشاہ کے لیٔے تلوار لائی گئی۔ 25 اَور بادشاہ نے حُکم دیا: ”زندہ بچّہ کو کاٹ کر اُس کے دو ٹکڑے کر دو۔ آدھا ایک کو اَور آدھا دُوسری کو دے دو۔“
26 تَب جِس عورت کا بچّہ زندہ تھا اُس کی شفقت اَپنے بیٹے کے لیٔے جاگ اُٹھی اَور وہ بادشاہ سے اِلتجا کرنے لگی، ”میرے آقا، زندہ بچّہ اِسی کو دے دیا جائے مگر اُسے جان سے ہرگز نہ ماراجائے!“
27 تَب بادشاہ نے اَپنا فیصلہ سُنایا: ”زندہ بچّہ اُس پہلی عورت کو دے دو اُسے جان سے نہ مارو کیونکہ وُہی اُس کی اصلی ماں ہے۔“
28 جَب تمام بنی اِسرائیل نے اِس فیصلہ کو جو بادشاہ نے دیا تھا سُنا تو وہ بادشاہ سے خوفزدہ ہو گئے اَور اُن کا بڑا اِحترام کرنے لگے کیونکہ اُنہُوں نے دیکھا کہ بادشاہ کو اِنصاف کرنے کی حِکمت خُدا کی طرف سے مِلی ہے۔
<- 1 سلاطین 21 سلاطین 4 ->
Languages