4 لہٰذا اُس نے یہوشافاطؔ سے دریافت کیا، ”کیا آپ راموتؔ گِلعادؔ میں جنگ کرنے میرے ساتھ چلیں گے؟“
6 چنانچہ شاہِ اِسرائیل نے نبیوں کو جمع کیا جو تقریباً چار سَو آدمی تھے اَور اُن سے پُوچھا، ”کیا میں راموتؔ گِلعادؔ سے جنگ کرنے جاؤں یا نہ جاؤں؟“
7 لیکن یہوشافاطؔ نے پُوچھا، ”کیا یہاں اِن نبیوں کے سِوا یَاہوِہ کا کویٔی نبی نہیں ہے جِس سے ہم دریافت کر سکیں؟“
8 تَب شاہِ اِسرائیل نے یہوشافاطؔ کو جَواب دیا، ”ابھی ایک اَور آدمی ہے جِس کے ذریعہ ہم یَاہوِہ سے پُوچھ سکتے ہیں لیکن مُجھے اُس سے نفرت ہے کیونکہ وہ میرے متعلّق کبھی اَچھّی نبُوّت نہیں کرتا بَلکہ ہمیشہ بُری نبُوّت کرتا ہے، اُس کا نام میکایاہؔ بِن اِملہؔ ہے۔“ یہوشافاطؔ نے جَواب دیا، ”بادشاہ کو اَیسا نہیں بولنا چاہئے۔“
9 لہٰذا شاہِ اِسرائیل نے اَپنے ایک افسر کو بُلاکر حُکم دیا، ”میکایاہؔ بِن اِملہؔ کو فوراً یہاں لے آؤ۔“
10 اَور شاہِ اِسرائیل اَور شاہِ یہُودیؔہ یہوشافاطؔ شاہی لباس میں سامریہؔ کے پھاٹک کے مدخل کے قریب ایک کھلیان میں اَپنے اَپنے تخت پر تخت نشین تھے اَور اُن کے سامنے تمام نبی نبُوّت کر رہے تھے۔ 11 اَور صِدقیاہؔ بِن کنعانہؔ نے اَپنے لئے لوہے کے سینگ بنوا کر اعلان کیا، ”یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں: ’تُم اِن سینگوں سے ارامیوں کو اِس طرح ماروگے کہ وہ نِیست و نابود ہو جایٔیں گے۔‘ “
12 اَور تمام دیگر نبی بھی اَیسی ہی نبُوّت کر رہے تھے اَور کہہ رہے تھے، ”کہ راموتؔ گِلعادؔ پر حملہ کرو اَور فتح پاؤ کیونکہ یَاہوِہ اُسے بادشاہ کے قبضے میں کر دیں گے۔“
13 اَور اُس قاصِد نے جو میکایاہؔ کو بُلانے گیا تھا اُس نے میکایاہؔ کو حُکم دیا، ”دیکھو، سارے نبی ایک زبان ہوکر بادشاہ کی کامیابی کی پیشن گوئی کر رہے ہیں؛ تُم بھی اُن ہی کی طرح پیشن گوئی کرنا اَور بادشاہ کو خُوش کرنے والی اَچھّی بات کرنا۔“
14 لیکن میکایاہؔ نبی نے کہا، ”زندہ یَاہوِہ کی قَسم میں صِرف وُہی کہُوں گا جو یَاہوِہ مُجھے فرمائیں گے۔“
15 جَب میکایاہؔ بادشاہ کے سامنے حاضِر ہویٔے تو بادشاہ نے اُن سے دریافت کیا، ”میکایاہؔ! کیا ہم راموتؔ گِلعادؔ کو جنگ کرنے جایٔیں یا جنگ کا خیال چھوڑ دیں؟“
16 بادشاہ نے میکایاہؔ سے کہا، ”میں کتنی مرتبہ تُمہیں قَسم دِلا کر کہُوں کہ تُم یَاہوِہ کے نام سے سچّی بات کے سِوا مُجھے اَور کچھ مت بتاؤ؟“
17 تَب میکایاہؔ نے جَواب دیا، ”مَیں نے تمام بنی اِسرائیل کو اُن بھیڑوں کی مانند پہاڑوں پر پراگندہ دیکھا جِن کا کویٔی گلّہ، گلّہ بان نہ تھا۔ اَور یَاہوِہ نے فرمایا، ’اِن لوگوں کا کویٔی آقا نہیں ہے۔ اِس لئے ہر ایک اَپنے گھر کو سہی سلامت لَوٹ جائے۔‘ “
18 تَب شاہِ اِسرائیل نے یہوشافاطؔ سے کہا، ”کیا مَیں نے آپ کو نہیں بتایا تھا کہ وہ میرے متعلّق کبھی اَچھّی بات کی نبُوّت نہیں کرتا، صِرف بدی کی ہی نبُوّت کرتا ہے؟“
19 میکایاہؔ نے اَپنی بات جاری رکھتے ہُوئے کہا، ”لہٰذا یَاہوِہ کا کلام سُنو، مَیں نے یَاہوِہ کو اَپنے تخت پر بیٹھے اَور تمام آسمانی فَوج کو اُن کے داہنی اَور بائیں طرف کھڑے دیکھا۔ 20 اَور یَاہوِہ نے دریافت کیا، ’احابؔ کو کون ورغلائے گا کہ وہ راموتؔ گِلعادؔ پر حملہ کرے تاکہ وہ وہاں ماراجائے؟‘
22 ” ’مگر کس طرح؟‘ یَاہوِہ نے اُس سے پُوچھا،
23 ”اِس لئے دیکھ، یَاہوِہ نے تمہارے اِن تمام نبیوں کے مُنہ میں جھُوٹ بولنے والی رُوح ڈال دی ہے۔ یَاہوِہ نے تمہارے بارے میں تباہی کا فرمان جاری کیا ہے۔“
24 تَب صِدقیاہؔ بِن کنعانہؔ نے جا کر میکایاہؔ کے مُنہ پر تھپّڑ مارا اَور پُوچھا، ”آخِرکار یَاہوِہ سے آئی رُوح مُجھ میں سے نکل کر تُم سے کلام کرنے کیسے چلی گئی؟“
25 میکایاہؔ نے جَواب دیا، ”جِس دِن تُم چھُپنے کے لیٔے اَندرونی کوٹھری میں جاؤگے، تَب تُمہیں مَعلُوم ہو جائے گا۔“
26 تَب شاہِ اِسرائیل نے حُکم دیا، ”میکایاہؔ کو پکڑ لو اَور اُسے شہر کے حاکم، امُونؔ اَور شہزادہ یُوآشؔ کے پاس لے جاؤ۔ 27 اَور اُن سے کہنا، ’بادشاہ یُوں فرماتا ہے: اِس آدمی کو قَیدخانہ میں رکھو اَور اُس سے مشقّت کراؤ اَور میرے سلامتی سے واپس آنے تک اُسے ذرا سِی روٹی اَور پانی کے سِوا اَور کچھ نہ دیا جائے۔‘ “
28 اِس پر میکایاہؔ نے کہا، ”اگر تُم کبھی صحیح سلامت واپس لَوٹ آئے تو سمجھ لینا کہ یَاہوِہ نے میری مَعرفت کلام ہی نہیں کیا تھا۔“ تَب اُس نے مجمع سے مزید کہا، ”اَے سَب لوگوں! میری باتیں یاد رکھنا!“
31 اُدھر شاہِ ارام نے اَپنے رتھوں کے بتّیس سرداروں کو حُکم دیا تھا، ”سِوائے شاہِ اِسرائیل کے تُم کسی چُھوٹے یا بڑے سے نہ لڑنا۔“ 32 جَب رتھوں کے سرداروں نے یہوشافاطؔ کو دیکھا تو اُنہُوں نے سوچا، ”یقیناً شاہِ اِسرائیل یہی ہے۔“ لہٰذا وہ اُس پر حملہ کرنے کے لیٔے نزدیک آئے۔ لیکن جب یہوشافاطؔ چِلّایا، 33 جَب رتھوں کے سرداروں نے دیکھا کہ وہ شاہِ اِسرائیل نہیں ہے، لہٰذا وہ یہوشافاطؔ کا تعاقب کرنے سے باز آئے۔
34 لیکن اِسی وقت کسی فَوجی نے یُوں ہی اَپنی کمان کھینچی اَور ایک تیر چلایا جو سیدھے جا کر شاہِ اِسرائیل کے زرہ بکتر کے بندوں کے درمیان جا لگا۔ تَب بادشاہ نے اَپنے رتھ بان کو حُکم دیا، ”رتھ موڑ لے اَور مُجھے میدانِ جنگ سے باہر لے چل کیونکہ مَیں زخمی ہو گیا ہُوں۔“ 35 اُس دِن شدید جنگ ہویٔی اَور بادشاہ نے اَپنے رتھ میں ارامیوں کے مقابل سیدھے کھڑے ہونے کی ترغیب نکالی مگر اُس کے زخموں سے خُون بہہ کر رتھ کے پائدان میں جمع ہوتا رہا اَور اُسی شام کو احابؔ کی موت ہو گئی۔ 36 اَور شام کے وقت فَوج میں یہ اعلان کیا گیا: ”ہر شخص اَپنے شہر کو اَور ہر ایک اَپنے مُلک کو لَوٹ جائے!“
37 چنانچہ بادشاہ کی موت ہو گئی اَور اُن کے لاش کو سامریہؔ لایا گیا اَور اُنہُوں نے اُسے وہاں دفن کیا۔ 38 اَور اُنہُوں نے بادشاہ کے رتھ کو سامریہؔ کے تالاب کے کنارے دھویا، جہاں طوائفیں غُسل کیا کرتی تھیں، اَور کُتّے بادشاہ کے خُون کو چاٹتے رہے جَیسا کہ یَاہوِہ نے اَپنے کلام کے مَعرفت فرمایا تھا۔
39 کیا احابؔ کے دَورِ حُکومت کے دیگر واقعات اَور وہ سارے کام جو اُس نے کئے اَور ہاتھی دانت کی کاریگری والا وہ محل اَورجو شہر اُس نے قلعہ بند کئے، اُن کے حالات اُس کا ذِکر بنی اِسرائیل کے بادشاہوں کی تواریخ کی کِتاب میں درج نہیں ہے؟ 40 احابؔ اَپنے آباؤاَجداد کے ساتھ سو گیا اَور اُس کا بیٹا احزیاہؔ بطور بادشاہ جانشین ہُوا۔
45 کیا یہوشافاطؔ کے دَورِ حُکومت کے واقعات اَور اُن کی بہادری کے کام اَور اُن کے جنگِ فتوحات وغیرہ یہُوداہؔ کے بادشاہوں کی تواریخ کی کِتاب میں درج نہیں ہیں؟ 46 اَور اُن کے باپ آساؔ کے دَورِ حُکومت میں باقی رہ گیٔے تمام معبُودوں کے مَندِروں کے مرَدپرستوں کو اُنہُوں نے مُلک سے بے دخل کر دیا۔ 47 اَور اُس وقت اِدُوم میں کویٔی بادشاہ نہ تھا بَلکہ ایک حاکم حُکومت کرتا تھا۔
48 اَور یہوشافاطؔ نے اوفیرؔ سے سونا لانے کے لیٔے ترشیشؔ کے جہازوں کا ایک بحری جہاز تیّار کیا تھا مگر وہ بیڑا کبھی بحری سفر پر نہیں گیا کیونکہ وہ عضیُون گیبر میں ہی تباہ ہو گیا تھا۔ 49 اُس وقت احابؔ کے بیٹے احزیاہؔ نے یہوشافاطؔ سے درخواست کی، ”اَپنے آدمیوں کے ساتھ میرے آدمیوں کو بھی بحری سفر پر جانے دو،“ لیکن یہوشافاطؔ نے اِنکار کر دیا۔
50 تَب یہوشافاطؔ اَپنے آباؤاَجداد کے ساتھ سو گیا اَور اُسے داویؔد کے شہر میں اُن کے آباؤاَجداد کے ساتھ دفن کیا گیا اَور اُس کا بیٹا یہُورامؔ بطور بادشاہ اُن کا جانشین ہُوا۔
Languages