1 تَب حنانیؔ کے بیٹے یِہُو پر یَاہوِہ کا یہ کلام بعشاؔ کے خِلاف نازل ہُوا، 2 ”مَیں نے تُمہیں خاک پر سے اُٹھاکر سرفراز کیا اَور اَپنی قوم بنی اِسرائیل کا حاکم بنایا مگر تُم یرُبعامؔ کی بد راہوں پر چلے اَور اِسرائیل سے گُناہ کروا کے اُن کے گُناہوں سے مُجھے غُصّہ دِلایا۔ 3 لہٰذا میں بعشاؔ اَور اُس کے گھرانے کو نِیست و نابود کر ڈالوں گا اَور تمہارے گھرانے کو یرُبعامؔ بِن نباطؔ کے گھرانے کی مانند بنا دُوں گا۔ 4 اگر بعشاؔ کے خاندان کے لوگوں میں سے کسی کی وفات اگر شہر میں ہوتی ہے تو اُن کے لاش کو کُتّے کھایٔیں گے اَورجو میدان میں مَریں گے اُنہیں ہَوا کے پرندے چٹ کر جایٔیں گے۔“
5 کیا بعشاؔ کے دَورِ حُکومت کے دیگر واقعات، اُس کی تمام بہادری اَور ساری کامیابی، اَورجو کچھ اُس نے کیا اُس کا ذِکر بنی اِسرائیل کے بادشاہوں کی تواریخ کی کِتاب میں درج نہیں ہے؟ 6 بعشاؔ اَپنے آباؤاَجداد کے ساتھ سو گیا اَور تِرضاؔہ میں دفن ہُوا اَور اُس کا بیٹا اَیلہ اُس کی جگہ بادشاہ بنا۔
7 اِس کے علاوہ، حنانیؔ کے بیٹے یِہُو نبی کی مَعرفت یَاہوِہ کا کلام بعشاؔ اَور اُس کے سارے خاندان کے خِلاف اِس لیٔے نازل ہُوا، کیونکہ بعشاؔ نے وہ کام کیا تھا، وہ یرُبعامؔ کے گھرانے کی مانند ہوکر اُس نے یَاہوِہ کی نظر میں ہر طرح کی بدی کی اَور اُس نے یرُبعامؔ کے گھرانے کو قتل کر ڈالا تھا، بعشاؔ کے اِن ہی گُناہوں کی وجہ سے یَاہوِہ کا غُصّہ بھڑک اُٹھا تھا۔
9 لیکن اَیلہ کے خادِم زِمریؔ نے جو اُس کے آدھے رتھوں کا سپہ سالار تھا، کے خِلاف اُس نے اُس وقت سازش کی جَب اَیلہ تِرضاؔہ میں شاہی محل کے دیوان ارضہؔ کے گھر میں نشہ میں چُور تھا۔ 10 شاہِ یہُودیؔہ آساؔ کے ستّائیسویں سال میں زِمریؔ نے وہاں پہُنچ کر اَیلہ کو قتل کر دیا اَور اُس کی جگہ بادشاہ بَن گیا۔
11 تخت نشین ہوکر، حُکمرانی شروع کرتے ہی زِمریؔ نے بعشاؔ کے سارے خاندان کو قتل کر دیا، اُس نے بعشاؔ کے خاندان اَور دوستوں کے گھرانے میں سے کسی بھی مَرد کو زندہ باقی نہ چھوڑا۔ 12 یُوں زِمریؔ نے یَاہوِہ کے اُس کلام کے مُطابق جو اُنہُوں نے بعشاؔ کے خِلاف یِہُو نبی کی مَعرفت فرمایا تھا، بعشاؔ کے سارے خاندان کو نِیست و نابود کر دیا۔ 13 یہ سَب کُچھ اُن گُناہوں کے باعث ہُوا جو خُود بعشاؔ اَور اُس کے بیٹے اَیلہ نے کئے تھے اَور اِسرائیل کو بھی گُناہ کرنے کے لیٔے اُکسایا، اَور اُنہُوں نے اَپنے نکمّے بُتوں کی پرستش سے اِسرائیل کے خُدا یَاہوِہ کو غُصّہ دِلایا۔
14 کیا اَیلہ کے دَورِ حُکومت کے دیگر واقعات اَور اُن سَب کاموں کے فتوحات جو اُس نے کیا، اُس کا ذِکر بنی اِسرائیل کے بادشاہوں کی تواریخ کی کِتاب میں درج نہیں ہے؟
20 کیا زِمریؔ کی حُکمرانی کے دیگر واقعات کا اَور بغاوت اَورجو کچھ اُس نے کیا اُس کا ذِکر بنی اِسرائیل کے بادشاہوں کی تواریخ کی کِتاب میں درج نہیں ہے؟
23 شاہِ یہُودیؔہ آساؔ کے دَورِ حُکومت کے اِکتیسویں سال میں عُمریؔ اِسرائیل کا بادشاہ بنا اَور اُس نے اِسرائیل پر بَارہ سال حُکمرانی کی جِن میں سے چھ بَرس تک وہ تِرضاؔہ کا حُکمران رہا۔ 24 اُس نے شِمیرؔ نام کے شخص سے اڑسٹھ کِلو چاندی میں سامریہؔ کی پہاڑی خرید لی اَور اُس پہاڑی پر ایک شہر تعمیر کیا اَور اُس کا نام پہاڑی کے پہلے آقا شِمیرؔ کی نِسبت سے سامریہؔ رکھا۔
25 لیکن عُمریؔ نے یَاہوِہ کی نظر میں بدی کی۔ اَور اُس نے اُن سبھی بادشاہوں سے جو اُس سے پہلے ہویٔے تھے زِیادہ گُناہ کئے۔ 26 کیونکہ اُس نے یرُبعامؔ بِن نباطؔ کے نقش قدم پر چلتے ہویٔے وُہی گُناہ کیا جو یرُبعامؔ نے بنی اِسرائیل سے کروایا تھا۔ اِس طرح اُنہُوں نے اَپنے نکمّے معبُودوں کی پرستش سے بنی اِسرائیل کے خُدا یَاہوِہ کے غُصّہ کو بھڑکایا۔
27 کیا عُمریؔ کے دَورِ حُکومت کے دیگر واقعات، اُس کی تمام بہادری اَور ساری کامیابی، اَورجو کچھ اُس نے کیا اُس کا ذِکر بنی اِسرائیل کے بادشاہوں کی تواریخ کی کِتاب میں درج نہیں ہے؟ 28 اَور عُمریؔ اَپنے آباؤاَجداد کے ساتھ سو گیا اَور سامریہؔ میں دفن کیا گیا اَور اُس کا بیٹا احابؔ اُس کی جگہ پر بادشاہ بنا۔
34 احابؔ کے زمانہ میں بیت ایل کے حی ایل نے یریحوؔ شہر کو دوبارہ تعمیر کیا۔ اَور جَب اُس نے اِس کی بُنیاد ڈالی تو اُس کا پہلوٹھا بیٹا ابیرامؔ مَر گیا اَور جَب اُس نے شہر کے پھاٹک لگائے تو اُس کا سَب سے چھوٹا بیٹا سِگُوبؔ مَر گیا۔ یہ یَاہوِہ کے کلام کے مُطابق ہُوا جو اُنہُوں نے یہوشُعؔ بِن نُونؔ کی مَعرفت فرمایا تھا۔
<- 1 سلاطین 151 سلاطین 17 ->
Languages