6 اَب، اَے بھائیو اَور بہنوں! مَیں نے تمہاری خاطِر اِن باتوں کے ذریعہ اَپنا اَور اپُلّوسؔ کا حال مثال کے طور پر پیش کیا ہے تاکہ ہماری مثال سے تُمہیں مَعلُوم ہو جائے، ”لکھے ہویٔے سے تجاوُز نہ کرو۔“ تَب تُم ایک کے مُقابلے میں دُوسرے پر زِیادہ فخر نہ کروگے۔ 7 آخِر کون ہے جو تُم میں اَور کسی دُوسرے میں فرق کرتا ہے؟ تمہارے پاس کیا ہے جو تُم نے کسی دُوسرے سے نہیں پایا؟ اَور جَب تُم نے پایا ہے تو پھر فخر کیسا؟ کیا وہ کسی کا دیا ہُوا نہیں؟
8 تُم تو پہلے ہی سے آسُودہ حال ہو، پہلے ہی سے دولتمند ہو اَور ہمارے بغیر بادشاہی بھی کرنے لگے ہو۔ کاش تُم واقعی بادشاہی کرتے تاکہ ہم بھی تمہارے ساتھ بادشاہی کر سکتے! 9 مُجھے تو اَیسا لگتا ہے کہ خُدا نے ہم رسولوں کو اُن لوگوں کی قطار میں سَب سے پیچھے رکھا ہے جِن کے لیٔے حُکم صادر ہو چُکاہے کہ وہ تماشاگاہ میں قتل کیٔے جایٔیں کیونکہ ہم تمام کایِٔنات، فرشتوں اَور اِنسانوں کے لیٔے تماشا بنے ہویٔے ہیں۔ 10 ہم المسیح کی خاطِر احمق ہیں لیکن تُم المسیح میں کِس قدر عقلمند ہو، ہم کمزور ہیں اَور تُم زورآور ہو، تُم عزّت والے اَور ہم بے عزّت۔ 11 ہم اِس وقت تک بھُوکے پیاسے ہیں، چیتھڑے پہنتے ہیں، مُکّے کھاتے اَور مارے مارے پھرتے، ہم بے گھر ہیں۔ 12 ہم اَپنے ہاتھوں سے سخت محنت کرتے ہیں۔ لوگ ہمیں بُرا کہتے ہیں اَور ہم اُنہیں برکت دیتے ہیں۔ جَب ہم ستائے جاتے ہیں تو صبر سے کام لیتے ہیں۔ 13 وہ ہمیں بُرا بھلا کہتے ہیں تو ہم نرم مِزاجی سے جَواب دیتے ہیں۔ ہم آج تک پاؤں کی دُھول اَور دُنیا کے کُوڑےکرکٹ کی مانِند سمجھے جاتے ہیں۔
18 تُم میں سے بعض مغروُر ہو گئے ہیں یہ سوچ کر کہ گویا مَیں تمہارے پاس آنے سے ڈرتا ہُوں۔ 19 لیکن اگر خُداوؔند نے چاہا تو میں بہت جلد تمہارے پاس آؤں گا اَور تَب مُجھے مَعلُوم ہو جائے گا کہ یہ شیخی باز صِرف باتیں کرتے ہیں یا کچھ کرنے کی طاقت بھی رکھتے ہیں۔ 20 کیونکہ خُدا کی بادشاہی صِرف باتوں پر نہیں بَلکہ قُدرت پر موقُوف ہے۔ 21 کیا تُم چاہتے ہو کہ میں چھڑی لے کر تمہارے پاس آؤں یا مَحَبّت اَور نرم مِزاجی رُوح کے ساتھ؟
<- 1 کُرِنتھِیوں 31 کُرِنتھِیوں 5 ->
Languages