2 داویؔد نے مُوآبیوں کو بھی شِکست دی اَور وہ اُس کے مطیع ہو گئے اَور خراج اَدا کرنے لگے۔
3 اِس کے علاوہ داویؔد نے ضوباہؔ حماتؔ کے بادشاہ ہددعزرؔ کو بھی شِکست دی جَب وہ دریائے فراتؔ تک کے علاقہ کو اَپنے قبضہ میں لینا چاہتا تھا۔ 4 اَور داویؔد کے ایک ہزار رتھ، سات ہزار رتھ بان اَور بیس ہزار پیادہ سپاہی پکڑ لئے۔ اُس نے ایک سَو رتھ کے گھوڑوں کے سِوا باقی سَب کی کونچیں کاٹ ڈالیں۔
5 اَور جَب دَمشق کے ارامی ضوباہؔ کے بادشاہ ہددعزرؔ کی مدد کو آئے تو داویؔد نے اُن میں سے بائیس ہزار کو قتل کیا۔ 6 اُس نے دَمشق کی ارامی سلطنت میں اَپنے فَوجیوں کی چوکیاں قائِم کیں اَور ارامی اُن کے مطیع ہو گئے اَور خراج اَدا کرنے لگے۔ اَور جہاں کہیں داویؔد گئے یَاہوِہ نے اُنہیں فتح بخشی۔
7 ہددعزرؔ کے فَوجی سرداروں کے پاس سونے کی ڈھالیں تھیں۔ داویؔد نے اُن پر قبضہ کر لیا اَور اُنہیں یروشلیمؔ لے آئے۔ 8 اَور داویؔد ہددعزرؔ کے قصبوں طیبحؔ[a] اَور کُونؔ سے بہت سا کانسا لائے جسے شُلومونؔ نے ایک بڑا حوض اَور سُتون اَور برتن بنانے کے لیٔے اِستعمال کیا۔
9 جَب حماتؔ کے بادشاہ توعُوؔ نے سُنا کہ داویؔد نے ضوباہؔ کے بادشاہ ہددعزرؔ کے تمام فَوج کو شِکست دے دی۔ 10 تَب توعُوؔ نے اَپنے بیٹے ہَدورامؔ کو داویؔد بادشاہ کے پاس بھیجا تاکہ اُنہیں سلام کرے اَور مُبارکباد دے کیونکہ داویؔد نے جنگ کرکے ہددعزرؔ کو مارا تھا کیونکہ ہددعزرؔ توعُوؔ سے جنگ کیا کرتا تھا، اَور ہَدورامؔ سونے، چاندی اَور کانسے کی ہر قِسم کی اَشیا اَپنے ساتھ نذرانہ کے طور پر لایاتھا۔
11 جنہیں داویؔد بادشاہ نے یَاہوِہ کو نذر کر دیا جَیسا کہ اُنہُوں نے دیگر اَقوام یعنی اِدُوم، مُوآب، بنی عمُّون، فلسطینیوں اَور عمالیقؔ سے حاصل کَردہ چاندی اَور سونا یَاہوِہ کو نذر کیا تھا۔
12 ابیشائی بِن ضرویاہؔ نے وادی شور میں اٹھّارہ ہزار اِدُومیوں کو مارا 13 اَور اُس نے اِدُوم میں مُحافظ فَوجی چوکیاں قائِم کیں اَور تمام اِدُومی داویؔد کے مطیع ہو گئے اَور داویؔد جہاں بھی جاتے تھے یَاہوِہ اُنہیں فتح بخشتے تھے۔
Languages