5 کچھ لوگ ایک دن کو دوسرے دنوں کی نسبت زیادہ اہم قرار دیتے ہیں جبکہ دوسرے تمام دنوں کی اہمیت برابر سمجھتے ہیں۔ آپ جو بھی خیال رکھیں، ہر ایک اُسے پورے یقین کے ساتھ رکھے۔ 6 جو ایک دن کو خاص قرار دیتا ہے وہ اِس سے خداوند کی تعظیم کرنا چاہتا ہے۔ اِسی طرح جو سب کچھ کھاتا ہے وہ اِس سے خداوند کو جلال دینا چاہتا ہے۔ یہ اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اِس کے لئے خدا کا شکر کرتا ہے۔ لیکن جو کچھ کھانوں سے پرہیز کرتا ہے وہ بھی خدا کا شکر کر کے اِس سے اُس کی تعظیم کرنا چاہتا ہے۔ 7 بات یہ ہے کہ ہم میں سے کوئی نہیں جو صرف اپنے واسطے زندگی گزارتا ہے اور کوئی نہیں جو صرف اپنے واسطے مرتا ہے۔ 8 اگر ہم زندہ ہیں تو اِس لئے کہ خداوند کو جلال دیں، اور اگر ہم مریں تو اِس لئے کہ ہم خداوند کو جلال دیں۔ غرض ہم خداوند ہی کے ہیں، خواہ زندہ ہوں یا مُردہ۔ 9 کیونکہ مسیح اِسی مقصد کے لئے مُوا اور جی اُٹھا کہ وہ مُردوں اور زندوں دونوں کا مالک ہو۔ 10 تو پھر آپ جو صرف سبزی کھاتے ہیں اپنے بھائی کو مجرم کیوں ٹھہراتے ہیں؟ اور آپ جو سب کچھ کھاتے ہیں اپنے بھائی کو حقیر کیوں جانتے ہیں؟ یاد رکھیں کہ ایک دن ہم سب اللہ کے تخت عدالت کے سامنے کھڑے ہوں گے۔ 11 کلامِ مُقدّس میں یہی لکھا ہے،
12 ہاں، ہم میں سے ہر ایک کو اللہ کے سامنے اپنی زندگی کا جواب دینا پڑے گا۔
19 چنانچہ آئیں، ہم پوری جد و جہد کے ساتھ وہ کچھ کرنے کی کوشش کریں جو صلح سلامتی اور ایک دوسرے کی روحانی تعمیر و ترقی کا باعث ہے۔ 20 اللہ کا کام کسی کھانے کی خاطر برباد نہ کریں۔ ہر کھانا پاک ہے، لیکن اگر آپ کچھ کھاتے ہیں جس سے دوسرے کو ٹھیس لگے تو یہ غلط ہے۔ 21 بہتر یہ ہے کہ نہ آپ گوشت کھائیں، نہ مَے پئیں اور نہ کوئی اَور قدم اُٹھائیں جس سے آپ کا بھائی ٹھوکر کھائے۔ 22 جو بھی ایمان آپ اِس ناتے سے رکھتے ہیں وہ آپ اور اللہ تک محدود رہے۔ مبارک ہے وہ جو کسی چیز کو جائز قرار دے کر اپنے آپ کو مجرم نہیں ٹھہراتا۔ 23 لیکن جو شک کرتے ہوئے کوئی کھانا کھاتا ہے اُسے مجرم ٹھہرایا جاتا ہے، کیونکہ اُس کا یہ عمل ایمان پر مبنی نہیں ہے۔ اور جو بھی عمل ایمان پر مبنی نہیں ہوتا وہ گناہ ہے۔
<- رومیوں 13رومیوں 15 ->